خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 204
خطبات طاہر جلد ۱۲ 204 خطبه جمعه ۱۲ مارچ ۱۹۹۳ء منافقت انسانی زندگی کا حصہ بنی ہوئی ہے اور منافق خدا کے ہاں مقبول نہیں ہو سکتا۔ اس لئے مغفرت کی دعا کے وقت یہ بات مد نظر رکھیں کہ یہ درست ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ستاری نے آپ کو ڈھانپ رکھا ہے، یہ درست ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ستاری آپ کو یہ بھی اجازت نہیں دیتی کہ اپنے جرائم دنیا کے سامنے پیش کریں ۔ اس کو بھی خدا تعالیٰ کراہت سے دیکھتا ہے اور ناشکری سمجھتا ہے لیکن اپنے حضور تو اپنے گناہ پیش کریں ۔ اگر آپ کی آنکھوں کے سامنے آپ کے گناہ نہیں آئیں گے خدا کے حضور کس طرح پیش کر کے مغفرت اور بخشش کی دعائیں مانگیں گے۔ پس فضلوں سے بہت پہلے، بڑی بڑی ترقیات سے بہت پہلے ، پیشتر اس کے کہ مقام محمود کی باتیں ہوں ، مقام محمود والے کے قدم چھونے کی الله باتیں ہوں، پہلے اپنے نفس کو تو پاک وصاف کرنے کے لئے مغفرت کی دعائیں مانگیں۔ یہ وہ نکتہ ہے جسے حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ نے حضرت عائشہ کو سمجھایا اور یہ سمجھانا بتاتا ہے کہ کتنا گہر ا عرفان تھا آنحضور میں ۔ کوئی دنیا کا آدمی جب اُس سے کہا جائے کہ اگر تمہیں کوئی لمحہ نصیب ہو کہ جب کہا جائے مانگ جو مانگتا ہے تیری دعائیں قبول ہوں گی ۔ تو ضرور ایسی ایسی باتیں سوچے گا دو جہان کی دولتیں مانگوں ، فلاں جنت مانگوں، فلاں چیز مانگوں اور حضرت محمدرسول اللہ ﷺ جو واقعی حقیقی طور پر عارف باللہ تھے۔ آپ فرماتے ہیں بخشش کی دعامانگنا بخشش کے بغیر تمہیں کچھ بھی نہیں مل سکتا اور اگر حقیقت یہ ہے کہ انسان بخشش کے بغیر ایک زندگی کا سانس لینے کا بھی اہل نہیں ۔ اُس کی ساری زندگی حرام کی زندگی ہے کیونکہ جب خدا کی نافرمانی میں اُس کی عطا کردہ نعمتوں سے انسان لذت حاصل کرتا ہے تو وہ حرام کی لذت ہے۔ اُس کی کوئی بھی حقیقت نہیں ۔ ساری زندگی میں وہ زہر گھول دیتی ہے۔ تو ہم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جو حقیقت میں پاک ہو بھی قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ فَلَا تُرَكُوا أَنْفُسَكُمْ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقَى (النجم:۳۳) کہ تم اپنے آپ کو پاک صاف نہ بتایا کرو۔ کیا باتیں کرتے ہو تم کیسے ذکی اور کیسے پاک انسان ہو۔ اللہ کو پتا ہے کہ کون پاک ہے؟ تم اپنی ماں کے پیٹ میں جنین کی صورت میں کروٹیں بدل رہے تھے۔ اُس وقت سے خدا تمہیں جانتا ہے۔ تمہاری حیثیت کیا ہے، تمہارے اندر خلقی کمزوریاں کیا کیا ہیں؟ جنہوں نے بڑے ہو کر کیا کیا رنگ دکھانے تھے؟ ان سب باتوں سے اللہ باخبر ہے وہی پاک ہے جسے اللہ پاک قرار دے۔ صلى الله پس مقام محمود پر غور کرتے ہوئے یہ سارا مضمون سمجھ آتا ہے۔ آنحضرت ﷺ نے جو