خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 200
خطبات طاہر جلد ۱۲ 200 خطبه جمعه ۱۲ مارچ ۱۹۹۳ء گا تو آواز پر لبیک کہتے ہوئے تمہارے ساتھ شامل ہو جائے گا اگر نہ سنے گا یعنی کوئی آدمی ہو گا نہیں تو خدا آسمان سے فرشتے اتارے گا وہ اس اذان کے جواب میں تمہاری نماز کے ساتھ شامل ہو کر تمہاری نماز کو با جماعت کر دیں گے تو اذان پر فرشتوں کے لبیک کہنے کا مضمون کوئی فرضی جذباتی مضمون نہیں بلکہ حضرت اقدس محمد مصطفی علی کی واضح خبر ہے جو جھوٹی ہو نہیں سکتی۔ پس میں سمجھتا ہوں کہ اس اذان عروسه کے جواب میں ساری کائنات میں فضا فرشتوں کی حمد سے مرتعش ہوتی ہے جو خدا کے حضور گیت گاتے ہیں صلى الله صلى الله اور حضرت اقدس محمد مصطفی عروسه کے لئے دعا کرتے ہیں وا وابعثه مقاما محمودا - وابعثه مقاما محمودا ۔ پس ہم ایسے دور میں داخل ہوئے ہیں جہاں مقام محمود کی دعا ایک عالمی دعا بن کر سارے عالم کی فضا کو مرتعش کر رہی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وہ شعر یاد آ جاتا ہے۔ آدمی زاد تو کیا چیز فرشتے بھی تمام مدح میں تیری وہ گاتے ہیں جو گایا ہم نے (در مشین : صفحہ ۱۷) عروسه پس اے جماعت احمد یہ تمہیں مبارک ہو جب تم مقام محمود کی دعائیں کرتے ہو اپنے آقا ومولا اور حس اور محسن اعظم حضرت محمد مصطفی اللہ کے لئے تو یا درکھو آسمان کے فرشتے بھی تمہارے ساتھ مل کر حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے لئے وابعثه مقاما محمودا۔ وابعثه مقاماً محمودا کی آوازیں بلند کرتے ہیں اور سارا جگ ساری زمین و آسمان کی فضا اس دعا سے مرتعش ہو جاتی ہے۔ پس مقام محمود کا ایک اور مضمون ہمیں اس دور میں داخل ہو کر سمجھ آیا کہ بڑھتا، جاری رہنے والا ایک مقام ہے جو کبھی کسی جگہ ٹھہرے گا نہیں اور یہ سلسلے جب عام ہوں گے جب زیادہ سے زیادہ بنی نوع انسان آنحضور ﷺ پر درود بھیجیں گے اور دنیا کے کونے کونے میں اذانیں دی جائیں گی اور ہر وقت سننے والے ایسے تربیت یافتہ ہوں گے کہ دل کی گہرائی سے آنحضور ﷺ پر سلام اور درود بھیجیں گے اور وابعثه مقاماً محمودا کی دعائیں کریں گے تو یہ مضمون اور زیادہ وسعت پذیر ہوتا چلا جائے گا۔ اس مضمون کا ایک گہرا تعلق عبادت سے ہے اور ماہ رمضان اور اس کی آخری راتوں کی عبادت سے ہے یہ وہ عشرہ ہے جس میں اس کثرت کے ساتھ اتنے گہرے خلوص اور انہماک کے ساتھ راتوں کی عبادت کی جاتی ہے کہ ایسی عبادت کا نظارہ دنیا میں کسی اور مہینے میں کہیں دکھائی نہیں دے سکتا۔ تمام عالم میں مسلمان جب اس آخری عشرے میں داخل ہوتے ہیں تو وہ جن کو پہلے عبادت صلى الله