خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 184
خطبات طاہر جلد ۱۲ 184 خطبه جمعه ۱۵ مارچ ۱۹۹۳ء بغیر عام طور پر لوگ اس حدیث سے گزر جاتے ہیں اور یہ ایک مشکل مسئلہ ہے جسے ٹھہر کر اور غور کر کے سمجھنا چاہئے۔ ال صلى الله میں نے اس پر غور کیا اور جب سمجھ نہ آئی تو پھر دعا کی کہ اے اللہ تو ہی سمجھا۔ آخر یہ کیا فرق ہے؟ کیوں خدان کیوں خدا تعالیٰ نے ایسی نے ایسی عجیب بات فرمائی کیونکہ یہ حدیث فو ہ یہ حدیث قدسی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے خدا کی طرف منسوب فرمائی ہے۔ اس لئے اللہ ہی نے فرمایا ہے جو آپ نے آگے ہم تک پہنچایا۔ تو مجھے اس کا ایک مضمون سمجھ آیا اور میں سمجھتا ہوں کہ جس طرح میرے دل کے لئے اطمینان کا موجب بنا آپ کے لئے بھی مطمئن کرنے کا موجب بنے گا۔ سب سے پہلے یہ سمجھنا چاہئے کہ لقا اس کی جزا بتائی گئی ہے اس نیکی کی ، خدا سے ملاقات اور دوسری جگہوں سے ثابت ہوتا ہے ویسے بھی انسان اپنی عقل سلیم سے جانتا ہے کہ مرنے کے ساتھ لقاء کا تعلق ہے ۔ جو انسان مرجاتا ہے اسے لقاء باری تعالیٰ نصیب ہوتی ہے۔ مرنا دونوں طرح سے ہوتا ہے روحانی لحاظ سے بھی اور جسمانی لحاظ سے بھی اور جب انسان مرتا ہے تو قرآن کریم سے قطعی طور پر ثابت ہے وہاں سے لقاء شروع ہو جاتی ہے یعنی روحانی لقاء تو زندگی میں ہی شروع ہو جاتی ہے لیکن مرنے کے بعد تو ہر شخص خدا کے حضور حاضر ہو جاتا ہے۔ میں نے غور کیا کہ جتنی دوسری نیکیاں ہیں وہ نیکیاں اگر جاری رکھی جائیں یا ان میں انتہاء کر دی جائے تو اُس کے نتیجے میں آگے مر نہیں سکتا ۔ نمازیں پڑھتا ہے سارا دن نمازیں پڑھے۔ کھانا اگر نہیں چھوڑتا اور پانی نہیں چھوڑتا تو مرے گا نہیں۔ اگر ایک انسان خدمت خلق کرتا ہے تو بے شک جتنی مرضی چاہے کرے اس کے نتیجے میں مر نہیں سکتا ہے۔ روزہ ایک ایسی چیز ہے جس کے نتیجے میں زندگی کے واجبات انسان اپنے اوپر حرام کر لیتا ہے اور اگر روزہ لمبا کر دیا جائے دو تین چار پانچ دن کے عرصے کے اندر انسان کا انجام لازماً موت ہے۔ پس اس کا منطقی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان اگر روزے کی نیکی کو بڑھائے، لمبا کرے تو اللہ تعالیٰ کی ملاقات کے لئے روانہ ہو جاتا ہے۔ اُس سے کم درجے پر یہ سفر پھر ختم نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ کی یہ شان ہے کہ ہر نیکی کو اپنے منتہا تک پہنچنے سے پہلے اپنے فضل سے روک دیتا ہے۔ فرماتا ہے باقی جزاء میں اپنے فضل سے دوں گا۔ نمازیں جتنی پڑھتے ہیں اگر اتنی ہی جزاء ہمیں ملے تو ایک انسان کی ساری عمر کی نمازیں اگر ملالی جائیں تو زیادہ سے زیادہ میں سال کی عبادت کہہ سکیں گے آپ اس کو جو بہت ہی