خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 170
خطبات طاہر جلد ۱۲ 170 خطبه جمعه ۲۶ فروری ۱۹۹۳ء ڈالی گئی ہے۔ چنانچہ معاً بعد یہ بات کھول کر رکھ دی فرمایا يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ تمہیں وہم ہے کہ خدا تعالیٰ کسی پرسختی ڈالے تو اس کو ثواب دیتا ہے۔ اللہ تو اپنے سب بندوں کے لئے آسانی چاہتا ہے اور سختی میں کوئی نیکی نہیں ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے ؟ ا اگر وہ سختی برداشت کرنے کا ارشاد فرماتا ہے تو اس کے ساتھ کوئی آسانی وابستہ ہوئی ہوئی ہے اس سختی کو اختیار کئے بغیر وہ آسانی حاصل نہیں ہو سکتی تختی بذات مقصود ہو انہیں کرتی ۔ اس مضمون کو بہت اچھی طرح ذہن نشین کرنا ضروری ہے ورنہ نیکیوں کی صحیح تعریف انسان کو معلوم نہیں ہو سکتی ۔ دیکھو اسی جگہ جہاں فرمایا کہ سفر کی حالت میں روزہ نہ رکھنا بعد میں رکھ لیا کرنا اور مرض کی حالت میں روزہ نہ رکھنا بعد میں رکھ لیا کرنا اس کے ساتھ یہ فرما دیا يُرِيدُ اللهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ اللہ تم پر سختی نہیں چاہتا نرمی چاہتا ہے۔ اس میں ایک اور بھی ضمناً بات بیان فرمادی اس کو بیان کرنے کے بعد میں دوبارہ پھر اس مضمون کی طرف آتا ہوں۔ وہ یہ فرمایا ہے کہ یہ وہم ہو سکتا ہے کہ کن دنوں میں رکھیں ۔ سخت گرمی کے روزے انسان کے چھوٹ گئے ہیں اور اب وہ کیا سخت گرمیوں کا انتظار کرے کہ اتنی گرمیاں آئیں ویسی شدت کے روزے آئیں تو پھر میں رکھوں۔ یہ آیت بتاتی ہے کہ ان وہموں میں مبتلا نہ ہونا سختی فی ذاتہ مقصود نہیں ہے۔ اللہ کہتا ہے عدت پوری کرو جب بھی توفیق ملے عدت پوری کر دو، اگر سردیوں میں ملتی ہے تو سردی میں پوری کر دو کیونکہ نیکی تو رضائے باری تعالیٰ کے کمانے کا نام ہے۔ سختیوں میں سے گزرنے کا نام نیکی نہیں ہے۔ اب جو دوسرا پہلو ہے وہ یہ ہے کہ جب خدا نحسر نہیں چاہتا ئیسر چاہتا ہے تو پھر ہمیں عسر میں ڈالا کیوں ہے؟ اس بات کو یا درکھیں جہاد کا مضمون بھی اس میں داخل ہے۔ ہر قسم کی محنت اور مشقت کا مضمون اس کے اندر آ جاتا ہے جس کی تعلیم خدا تعالیٰ دیتا ہے اور جس کے نتیجے میں انسان کو اپنے اوپر کئی چیزیں حرام کرنی پڑتی ہیں کئی جائز چیزیں چھوڑنی پڑتی ہیں اور کئی قسم کی ایسی تکلیفیں طوعی طور پر اختیار کرنی پڑتی ہیں جن کی مجبوری نہیں ہے۔ خود اپنی عقل کے فیصلے کے مطابق جہاں اسے اختیار ہے کہ چاہے تو سختی اختیار کرے چاہے تو نہ کرے۔ وہ تختی کو اختیار کرتا ہے اللہ کی رضا کی خاطر تو خدا نے پھر کیوں سختی فرض فرمادی؟ جب پیسر چاہتا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ نظام کا ئنات میں بعض آسانیاں بعض مشکلات کا پھل ہیں۔ ایک زمیندار جب محنت کر کے فصل کاشت کرتا ہے پھر سارا سال اس کی