خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 13
خطبات طاہر جلد ۱۲ 13 خطبه جمعه ارجنوری ۱۹۹۳ء لوگ آئیں گے۔ ان کو سمجھانے کی ضرورت ہے کہ انسانیت ہے کیا؟ دنیا میں انسانیت کا شرف دوبارہ قائم کئے بغیر، انسانی قدروں کو بحال کئے بغیر ہم جو عالمی انصاف کی یا عالمی امن کی باتیں کرتے ہیں وہ صرف منہ کی باتیں ہیں، ان میں کوئی بھی حقیقت نہیں ہوتی ۔ اس سلسلہ میں بڑے دلچسپ پروگرام بنائے جا سکتے ہیں ۔ بڑے اچھے اچھے جلسے کئے جاسکتے ہیں اور ان جلسوں میں پسماندہ قوموں کے حقوق کے اوپر بھی بحث ہو سکتی ہے لیکن یہ دراصل بعد کی باتیں ہیں، پہلے میں سمجھتا ہوں کہ صرف انسانی قدروں کی بات ہونی چاہئے ۔ انسانی قدروں کے حوالوں سے بعض دفعہ یہ بات بھی آئے گی کہ ہم ایک ملک میں عیش و عشرت کی زندگی بسر کر رہے ہیں اور ایک اور ملک ہے جہاں فاقے کئے جارہے ہیں ۔ اگر انسانی قدریں زندہ ہوں تو یہ نہیں ہو سکتا۔ انسانی قدروں کی راہ میں قومی دیواریں حائل ہوگئی ہیں، کہیں مذہبی دیواریں حائل ہو جاتی ہیں، کہیں نظریاتی دیواریں حائل ہو جاتی ہیں۔ پس ان سب مصنوعی جھوٹی دیواروں کا ٹوٹنا ضروری ہے اور وہ اندرونی دباؤ سے ٹوٹنی چاہئیں۔ بیرونی حملے سے نہیں۔ اندرونی دباؤ جو انسانیت کے زندہ ہونے سے دلوں سے پیدا ہو گا اور قوم کے اندر جب وہ مجموعی طور پر زیرو بم دکھائے گا اس کے اندر او بیچ بیچ ہو گی ۔ جذبات میں بعض دفعہ کمی آتی ہے بعض دفعہ زیادتی ہوتی ہے تو میری مراد یہ ہے کہ جب انسانیت کے سانس چلنے لگیں گے، جب انسانیت کا دل دھڑکنے لگے گا، جب انسانی جذبات میں تموج پیدا ہونے لگے گا تو وہ اندرونی دباؤ ہے جو تعصب کی یہ دیواریں توڑے گا۔ ورنہ تعصب کی دیواریں باہر سے نہیں توڑی جاسکتیں ۔ یہ گہرا نفسیاتی نکتہ ہے۔ تعصب کی دیواروں کو جب باہر سے توڑنے کی کوشش کرو گے تو تعصب بڑھے گا۔ پس اندر سے سوچوں کو بدلنا پڑے گا۔ نظریات میں تبدیلی پیدا کرنی ہوگی۔ پس جماعت احمد یہ کے جتنے فکر رکھنے والے، جتنے دل رکھنے والے صاحب نظر لوگ ہیں ، ان سب سے میں یہ درخواست کرتا ہوں کہ اپنی صلاحیتوں کو استعمال کریں اور دراصل ہر احمدی عام گفت و شنید کے ذریعہ بھی اپنے ارد گرد چھوٹے چھوٹے حسین جزیرے قائم کر سکتا ہے ۔ ہر انسان کے اندر ایک بنیادی مادہ ہونا چاہئے جو پھیلنے کی صلاحیت ہے اور بعض پیغامات جو اپنی ذات میں پھیلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ پیغام بھی ان پیغاموں میں سے ایک ہے۔ یہ ایک ایسا پیغام ہے جو فی الحقیقت انسانی دل کی آواز ہے۔ انسانی فطرت سے پھوٹا ہوا پیغام ہے۔ پس احمدی خواہ دانشور ہو یا غیر دانشور ہو، پڑھا لکھا ہو یا ان پڑھ ہوا گر وہ اپنے