خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 159
خطبات طاہر جلد ۱۲ 159 خطبه جمعه ۲۶ فروری ۱۹۹۳ء کے لئے تیار بیٹھی ہوتی تھیں۔ تو اثر کا تعلق محض اس آواز سے نہیں ہے جو پہنچ رہی ہے۔ اُن دلوں سے بھی ہے جو قبولیت کا مادہ رکھتے ہیں یا قبولیت کے لئے تیار ہوتے ہیں۔ پس دنیا میں پیغام پہنچانے صلى الله میں دو پہلو ہیں۔ ایک وہ آواز جو پیغام پہنچاتی ہے اور ایک وہ دل جو اس آواز کی طرف مائل ہوتے ہیں یا اس کے خلاف منفی رد عمل دکھاتے ہیں۔ پس دوسرا پہلو جو ہے وہ دعاؤں سے حل ہو سکتا ہے۔ حضرت اقدس محمد مصطفی علی کی آواز تو ی کی آواز تو وہی ایک ہی مقدس آواز تھی جو حضرت ابوبکر کے کان پر بھی پڑتی تھی، حضرت علی کے کان پر بھی پڑتی تھی اور وہی آواز ابو جہل بھی سنتا تھا۔ عکرمہ اور شیبہ بھی مگر زمینیں مختلف تھیں۔ کچھ کانوں نے ان آوازوں کو سنا اور دلوں نے قبول کیا اور دلوں میں جا گزین ہو گئیں، کچھ کانوں نے جھٹک دیا، کچھ آنکھوں نے دیکھنے سے انکار کر دیا ایسے وہ دل ہیں جن پر قفل پڑ جاتے ہیں ان قفلوں کا توڑنا بندے کے بس کی بات نہیں وہ تو اللہ کی توفیق ہی ہے، اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی جائے تو پھر یہ قفل ٹوٹتے ہیں۔ تبھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب آپ کو یہ خبر دے دی گئی خَتَمَ اللهُ عَلَى قُلُوْبِهِمْ وَعَلَى سَمْعِهِمْ وَ عَلَى أَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ (البقره: ۸) اے محمد ان لوگوں کے دلوں پر مہریں ہیں ، آنکھوں سے دیکھ نہیں سکتے ، کانوں سے سن نہیں سکتے ۔ تو پیغام پہنچانا تو آپ نے بند نہیں کیا، ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہیں بیٹھ رہے بلکہ اتنی ہی زیادہ شدت کے ساتھ دعاؤں کی طرف متوجہ ہوئے اور یہ حضرت محمد مصطفی ﷺ کی دعائیں ہی تھیں جنہوں نے صلى الله عروسه آنکھوں کو دوبارہ نور بخشا ہے ، جنہوں نے کانوں کو شنوائی کی طاقت عطا کی ہے وہ نہیں اس دنیا سے وں گزرے جب تک خدا تعالیٰ نے جو جو بیماریاں اس قوم کی بتائی تھیں اُن بیماریوں کو شفا نہیں بخش دی اللہ تعالی کے فضل کے ساتھ وہ دلوں کے تالے ٹوٹ گئے، جمود ختم ہو گئے ، ابوجہل کی اولاد سے آپ کے دین پر ، آپ کے نام پر جان شار کرنے والے پیدا ہوئے۔ پس جب یہ مضمون بیان کیا جاتا ہے کہ بعض زمینیں سخت ہیں ، بعض دل پتھر ہو گئے ، بعض آنکھیں اندھی ہیں، بعض کان سننے کے قابل نہیں تو اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ اس کا کوئی علاج نہیں۔ اس سے مراد یہ ہے کہ بندے کے بس کی بات نہیں ہے، تمہارے پاس اس کا کوئی علاج نہیں مگر خدا کے پاس ہے۔ اللہ کی طاقت کے متعلق حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے یہ ایک نقشہ یوں بیان فرمایا کہ جس طرح دو انگلیوں میں ایک چیز پکڑی ہوئی ہو۔ ذرا سا بدلنے سے اس