خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 154 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 154

خطبات طاہر جلد ۱۲ ایک لاہور کے نوجوان لکھتے ہیں کہ: 154 خطبه جمعه ۱۹ فروری ۱۹۹۳ء ”عالمی بیعت کے وقت آنکھوں سے آنسوؤں سے تر تھیں اور جسم پر کپکپاہٹ طاری تھی یوں لگتا تھا کہ جیسے اللہ تعالیٰ تمام حجاب تو ڑ کر ہمارے جلسہ یوں تھا کہ اللہ تعالی توڑ میں شریک ہے اس دن پوری دنیا گنگ تھی اور صرف خدائی بول رہی تھی۔ اس روز پروردگار نے ہماری پیاسی روحوں کی پیاس کو بجھا دیا اور ہیں کہ بجھا دیا اور پھر بھڑ کا بھی دیا ساتھ ہی۔ خطبہ ختم ہوتے ہی بھی ہوئی پیاس دوبارہ بھڑک اُٹھتی ہے اور اگلے جمعہ کا انتظار شروع ہو جاتا ہے ایک دوست لکھتے ہیں۔ ڈش انٹینا کے ذریعہ خطبات سن کر اپنے اندر بہت تبدیلی محسوس کر رہا ہوں پہلے میں نماز اور تلاوت میں سست تھا اب باقاعدگی سے توفیق مل رہی ہے دینی کاموں میں بھی حصہ لینے لگا ہوں ایسے محسوس ہوتا ہے کہ جیسے مجھے گم شدہ چراغ مل گیا ہے ۔ ماشاء اللہ اللہ کی شان ہے۔ ایک چھوٹے سے سندھ کے قصبے سے خط آیا ہے اور زبان دیکھیں یہ ایمان اور محبت کے اثر سے زبان زندہ ہوگئی ہے۔ ایک صاحب لکھتی ہیں کہ: ہر جمعہ بچوں کو لے کر خطبہ سننے جاتی ہوں اب یہ جمعہ کا دن سب پروگراموں پر بھاری ہے میں جو جمعہ کے دن TV کا ڈرامہ دیکھنے کیلئے بے تاب ہوا کرتی تھی اب تو دل صرف خطبہ سننے کے لئے بے تاب رہتا ہے ۔ ایک اور خاتوں لکھتی ہیں کہ: ہم ٹی وی پر آپ کو دیکھتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ آمنے سامنے ہی بیٹھے ہیں میرے خیال میں اس ڈش انٹینا نے ہم عورتوں پر سب سے بڑھ کر احسان کیا ہے اور معصوم بچوں پر خصوصی طور پر جن کو ہم آقا سے ملاقات کروانے کے لئے ترستے رہتے تھے اب یہ حضور اقدس کو دیکھ کر خاموشی سے بیٹھ جاتے ہیں اور ذرا شور نہیں کرتے اور مصروف عورتیں جو دن میں کئی مجبوریوں کی وجہ سے مسجد نہیں آسکتی تھیں وہ بھی رات کو مسجد میں باقاعدگی سے آتی ہیں اور چھوٹے چھوٹے معصوم بچے جو ابھی تک اتنے سمجھ دار نہیں ہیں وہ حضور اقدس کو دیکھتے دیکھتے سو جاتے ہیں اور خطبات لوری کا کام دیتے ہیں جو میٹھی نیند سلا دیتے ہیں اور مائیں پر سکون ہو کر خلیفہ وقت کے خطبہ سے مستفید ہوتی ہیں۔ مسجدیں پر رونق