خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 113
خطبات طاہر جلد ۱۲ 113 ه ۱۹۹۳ء خطبه جمعه ۵ فروری ۹۳ ہے اس وقت اگر وہ ٹوٹے تو بڑے بڑے علاقوں کو تباہ و برباد کر دیتی ہے بلکہ وہ دریا جس کو روکا گیا تھا خواہ کروڑوں سال بھی بہتا رہے تب بھی ویسی تباہی نہیں مچا سکتا۔ تبھی ہمارے محاورہ میں کہتے ہیں تجھ پر میرا صبر ٹوٹے صبر پہلے اکٹھا ہو گا تو ٹوٹے گانا ، اگر صبر اکٹھا ہو ہی نہ، بلکہ گالیاں دے کر اور اشتعال انگیزی کی باتیں کر کے دل کے سارے غبار نکال لئے جائیں اور بات بات پر جھڑ ہیں کر کے کسی مظلوم پر ناحق ظلم کر کے ظالم کا بظاہر بدلہ لیا جارہا ہو جس طرح پاکستان میں بد نصیبی سے ہوا تھا کہ وہاں ہندوستان میں جو مظالم ہوئے اس کے نتیجہ میں کوئٹہ اور بعض اور علاقوں میں بعض ہندو بچوں کو زندہ آگ میں پھینکا گیا۔ کوئی مسلمان ضمیر اس کو برداشت نہیں کر سکتا اور مجھے یقین ہے کہ پاکستان کی بڑی بھاری آبادی کا ا عملاً عملاً یہی یہی رد عمل ہوگا کیونکہ مسلمان اپنے ظلم میں بھی ایک حد رکھتا ہے اس سے آگے بڑھ ہی نہیں سکتا آخر محمد کی تربیت میں اور بتوں کی تربیت میں خدائے واحد کی تربیت میں اور بتوں کی تربیت الله میں ایک فرق ہے تبھی مسلمان اپنے مظالم میں بھی ایک حد سے آگے نہیں بڑھا کرتا تو ان کا یہی رد عمل ہو گا مگر افسوس ہے کہ چند نے جو بے صبری دکھائی اس کے نتیجہ میں اب مسلمان ہندوؤں کو یہ نہیں کہہ سکتا کہ تم ظالم ہو تم اس قدر بہیمانہ مظالم کی استطاعت رکھتے ہو وہ کہتے ہیں کہ تم نے کم کئے ہوں گے لیکن تم بھی تو آخر ویسے ہی ہو۔ صلى الله پس ضرورت ہے کہ مسلمان ممالک سچائی کی طرف اور صبر کی طرف لوٹیں اور اپنی ہر چیز میں انصاف قائم کریں۔ جو حق کا یہ مضمون ہے یہ بہت وسیع ہے جب قرآن کریم نے فرمایا کہ حق پر قائم ہو جاؤ تو حق کی بہت ہی وسیع تعریف ہے، انصاف کا قیام بھی حق میں ہے اور مظلوم ہوتے ہوئے پھر سچائی کی بات سر بلندی کے ساتھ کرنا اور ظالم کوگویا عملاً ظلم کی دعوت دینا یہ حق کی اعلیٰ تعریف ہے چنانچہ حضرت اقدس ﷺ نے جہاد اورحق کو باہم ملا کر ایک ہی مضمون میں پیش فرمایا ہے گویا ایک ہی چیز کے دو نام ہیں فرمایا افضل الجهاد كلمه حق عند سلطان جائر (انجم الکبیر للطبرانی جلد ۸ ص : ۲۸۲) کہ سب سے اعلیٰ اور سب سے عظیم جہاد یہ ہے کہ کوئی انسان ایک ظالم بادشاہ کے سامنے کھڑے ہو کر سچی بات کہہ دے۔ پس ظالم بادشاہ کے سامنے سچی بات کہنے کا جو مضمون ہے وہ آج اسلامی حکومتوں کے اوپر بعینہ صادق آ رہا ہے۔ جن بڑی طاقتوں کو انہوں نے اپنا سلطان بنا رکھا ہے، جن کو وہ خدا کی طرح اگر ظاہری طور پر نہیں پوجتے تو دل سے پوج رہے ہیں ، ان کے سامنے کلمہ حق کیوں نہیں کہتے مسلمان