خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 100 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 100

خطبات طاہر جلد ۱۲ 100 خطبه جمعه ۵ فروری ۱۹۹۳ء ایک ثواب ہو گا یا وہ ثواب ہوگا، جزاء کے بہت ہی خوبصورت نقشہ کھینچے گئے ہیں لیکن اس آیت میں ایک مختلف انداز ہے کسی مثبت اجر کا وعدہ نہیں بلکہ ایک منفی عذاب سے بچنے کی خوشخبری ہے سے ۔ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَى تِجَارَةٍ تُنْجِيْكُمْ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ اے وہ لوگو أَلِيما جو ایمان لائے ہو! کیا میں تمہیں ایک ایسی تجارت کی خبر دوں تُنْجِيْكُمْ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ تمہیں بہت ہی درد ناک عذاب سے بچائے گی تُؤْمِنُونَ بِاللہ وہ تجارت کیا ہے؟ اللہ پر ایمان لاؤ اور اس کے رسول پر اور اس کی یعنی اللہ کی راہ میں بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ اپنے اموال کے ذریعہ اور اپنی جانوں کے ذریعہ مجاہدہ کرو ذلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ تمہارے لئے بہت بہتر ہے کاش کہ تم جانتے! گزشتہ خطبہ میں بوسنیا کے مسلمانوں پر ہونے والے جن مظالم کا ذکر کیا گیا تھا ان کے تعلق سے مجھے اس آیت کا یہ مفہوم سمجھ میں آیا کہ انسان جب دنیا میں درد ناک حالات سے متاثر ہوتا ہے جب کسی اور پر ظلم تو ڑا جارہا ہوتا ہے اور اس سے ہمدردی رکھنے والا دل کسی اور جگہ بیٹھا کٹ رہا ہوتا ہے تو بسا اوقات ایسے وقت میں عذاب الیم سے بچنے کے لئے انسان کی توجہ خصوصیت کے ساتھ دعاؤں کی طرف پھرتی ہے مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ صرف دعاؤں سے کام نہیں چلے گا، دعا ئیں وہی مقبول ہوتی ہیں جنہیں نیک اعمال رفعتیں بخش رہے ہوں۔ پس جب بھی تم دنیا میں عذاب الیم کے نمونے دیکھو۔ تو تمہیں ایک ایسے دردناک عذاب سے بچنے کے لئے بھی مجاہدہ کرنا چاہئے جو انسانوں کے عائد کردہ درد ناک عذاب سے بہت زیادہ درد ناک ہو گا وہ عذاب الیم ان لوگوں کے لیے مقدر ہے جو بنی نوع انسان پر درد ناک عذاب وارد کرتے ہیں ۔ دنیا میں جتنی بدیاں ہیں ان کے نتائج ان بدیوں سے براہ راست ایک نوعیت کا تعلق رکھتے ہیں عذاب بھی اسی نوعیت کا ملتا ہے جیسی بدی ہو اور ثواب بھی اسی نوعیت کا ملتا ہے۔ جیسے نیکی ہو۔ پس قیامت کے دن درد ناک عذاب انہی لوگوں کو ملے گا جو اس دنیا میں خدا کے بندوں کو دردناک عذاب میں مبتلا کرتے ہیں اور بعض دفعہ یہ وعدہ دنیا میں بھی پورا ہوتا ہے مگر لمبے عرصہ کے بعد کیونکہ قرآن کریم میں حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کر کے یہ فرمایا گیا کہ ہم تیرے دشمنوں کے لئے جو بعض چیزیں وعدہ کر رہے ہیں کہ انہیں ضرور ملیں گی کچھ ہو سکتا ہے تو اپنی زندگی میں دیکھ لے اور کچھ تیری