خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 6
خطبات طاہر جلد ۱۲ 6 خطبه جمعه ار جنوری ۱۹۹۳ء تکبیر بلند کرتے ہوئے اور محمد مصطفی اللہ کے حسن و جمال کے گیت گاتے ہوئے آگے سے آگے بڑھتا چلا جائے گا۔ گزشتہ خطبہ میں وقف جدید کا جو اعلان ہوا تھا اس میں دو باتیں تو غلطی سے ایسی بیان کن رشتہ خطبہ میں وقف جدید کا جوا ہوئیں جن کی تصحیح ضروری ہے اور ایک پہلو وقف جدید اطفال نو کا ذکر رہ گیا تھا وہ میں اب کروں گا سب سے پہلے تو ایک عددی غلطی ہے یعنی جب میں نے پاکستان ، ہندوستان اور بنگلہ دیش کی جماعتوں کے علاوہ باقی دنیا میں وقف جدید کے وعدوں اور وصولی کے لحاظ سے 1991ء اور 1992ء کا موازنہ کیا تو غلطی سے یہ کہہ دیا 66 اضافہ ہوا ہے حالانکہ جو فقرہ نیچے لکھا ہوا تھا وہ 66 ہزار کا تھا اور باقی جگہ فیصد چل رہی تھی اس لئے میرے منہ سے بھی 66 ہزار کی بجائے %66 نکل گیا بھی یہ درستی ہونی چاہئے 34۔64 فیصد اضافہ ہوا تھا۔ دوسرے میں نے حضرت شیخ محمد احمد صاحب کا ذکر کرتے ہوئے ان کو صحابی بیان کر دیا تھا آپ کی پیدائش در اصل 14 نومبر 1896 ء کی ہے جبکہ حضرت منشی ظفر احمد صاحب جوان کے بزرگ صحابی والد تھے وہ اس سے پہلے احمدی ہو چکے تھے اور یہ پیدائشی احمدی تھے تو مجھے چونکہ یاد تھا کہ یہ پچھلی صدی میں پیدا ہوئے تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ کا ایک بڑا حصہ انہوں نے پایا اس لئے میں نے صحابی کہہ دیا اس سلسلہ میں ایک خط کا اقتباس میرے سامنے ہے جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے شیخ محمد احمد صاحب کی پیدائش پر ان کے والد کے نام مبارک باد کا خط لکھا جو یہ ہے: دو محبی اخویم منشی ظفر احمد صاحب سلمہ ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاته لڑکا نو وارد مبارک ہو۔ اس کا نام محمد احمد رکھ دیں خدا تعالی با عمر کرے۔“ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سارے کام اپنے ہاتھ سے کرتے تھے۔ اس زمانے میں کوئی سیکرٹری تو ہوا نہیں کرتے تھے اور کتابیں بھی لکھنا ۔ بڑے بڑے مضامین لکھنا پھر بے شمار اور دوسرے کام تھے کہ یقین نہیں آتا کہ چوبیس گھنٹے کے اندر اتنے کام ممکن ہیں پھر اپنے صحابہ کی دلداری کے لئے اپنے ہاتھ سے آپ انہیں خط بھی لکھا کرتے تھے مگر تر بر مختصر اور بہت سے مضامین کو چند الفاظ میں سمیٹے ہوئے اس خط میں یہ ” با عمر کرنے والی جو بات ہے یہ ہر خط میں آپ نہیں لکھا کرتے تھے کسی