خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 925 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 925

خطبات طاہر جلد اا 925 خطبه جمعه ۲۵ دسمبر ۱۹۹۲ء پھیلاؤ کے دائرے محدود رہتے ہیں اور ایک خاص حد سے آگے نہیں بڑھ سکتے لیکن بڑ کے درخت میں یہ خوبی ہے کہ جوں جوں پھیلتا ہے نئی شاخیں زمین کی طرف جھکاتا ہے جو زمین تک پہنچ کر جڑیں بن جاتی ہیں اور پھر ان جڑوں سے گویا اسی درخت کے نئے بچے پیدا ہوتے ہیں جو نئے درخت کے طور پر نہیں بلکہ پہلے درخت کے مددگار بن کر تعلق کاٹے بغیر اس کے ساتھ اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور اس طرح یہ سلسلہ پھیلتا چلا جاتا ہے۔ ہندوستان میں میں نے بڑ کا ایک ایسا درخت دیکھا تھا جو غالباً ہزار سال سے بھی زائد کا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ حضرت بدھ کے زمانے کا ہے بہر حال جو بھی اس کا زمانہ تھا لیکن یہ میں نے دیکھا کہ اتنا پھیل چکا تھا کہ ہمارا بڑے سے بڑا جلسہ سالانہ یعنی اڑھائی لاکھ والا جو جلسہ سالانہ تھا وہ اس کے اندر سما سکتا تھا۔ پارکنگ Lots بھی بن سکتی تھیں ۔ پھر بھی جگہ باقی رہ جاتی تھی۔ تو جماعت احمدیہ کو جو درخت کے مشابہ قرار دیا گیا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ ”میرے درخت وجود کی سرسبز شاخو تو میں سمجھتا ہوں کہ ان شاخوں میں بھی از سر نو درخت بننے کی صلاحیت رکھی گئی ہے اس لئے جہاں جہاں بھی جماعتیں پھیلتیں ہیں وہ وہاں زمین میں اپنی جڑیں پیوست کریں اور خود نشو و نما حاصل کرنا شروع کریں محض پرانی جڑوں پر انحصار نہ کریں۔ اس پہلو سے ہر ملک کے باشندوں کو چاہئے کہ وہ پاکستانی یا ہندوستانی نسل کے لوگوں سے جن پر سب سے پہلے احمدیت کی ذمہ داری ڈالی گئی ان پر اپنا انحصار ان معنوں میں نہ رکھیں کہ وہی جڑیں بنی رہیں اور یہ شاخیں بن کر ان سے رس چوستے رہیں بلکہ خود اپنے اپنے ملک میں جڑیں قائم کریں لیکن بڑ کی شان کے ساتھ وفاداری کے ساتھ اپنی جڑیں قائم کر کے اصل درخت سے الگ نہ ہوں بلکہ اس کا وجود بنے رہیں تب ان پر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی یہ توقع صادق ہو گی کہ اے میرے درخت وجود کی سرسبز شاخؤ اگر اُنہوں نے جڑیں الگ کر لیں اور اپنے درخت بھی الگ کر لئے تو کچھ بھی باقی نہیں رہے گا وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وجود کی سرسبز شاخیں نہیں رہیں گی بلکہ کسی اور شیطانی وجود کی شاخیں بن جائیں گی یعنی سابق تعلق کٹ جائے گا اور ایک الگ شخصیت ابھر کر باہر نکلے گی جس کا اللہ کے قائم کردہ مامور سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔ پس اسی وجہ سے میں نے با قاعدہ سوچ کر انتخاب کر کے بڑ کے درخت کی مثال آپ کے سامنے رکھی ہے جڑیں ضرور بنائیں مگر اصل کے ساتھ ہمیشہ وابستہ اور پیوستہ رہیں اسی میں آپ کی امید بہار ہے اسی سے