خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 905
خطبات طاہر جلداا 905 خطبه جمعه ۱۸ دسمبر ۱۹۹۲ء دعوت الی اللہ بن چکا ہے۔ اس چھوٹی عمر میں نو جوانی کی عمر میں یہ فدائیت جس کو نصیب ہو اللہ کا بڑا احسان ہے اور باقی جن کو نصیب نہیں ان کے لئے لمحہ فکر یہ ہے کہ کیوں نصیب نہیں ۔ تمہیں بھی خدا نے ایسے ہی اعضاء دیتے ہیں تمہیں بھی خدا نے وہ طاقتیں عطا کی ہیں جن طاقتوں کو خدا کی راہ میں استعمال کرنے سے ایسے پھل لگ سکتے ہیں۔ اس لحاظ سے ہر احمدی کے لئے اپنے منصب کو کم سے کم اس لحاظ سے پہچاننا ضروری ہے کہ ہمیں توفیق ہے یہ تو اعتراف کرنا ہو گا۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ کوئی احمدی کہے کہ ہمیں توفیق نہیں ہے اس لئے ہم مجبور ہیں، توفیق سب کو ہے اس لئے آپ سے توفیق کے مطابق پوچھا جائے گا۔ اگر سو کی توفیق نہیں تو دس کی ہوگی اس کی توفیق نہیں تو ایک کی ہوگی ۔ ایک سال میں ایک کی نہیں تو چند سالوں میں ایک کی ہوگی توفیق تو بہر حال ہے میں مان ہی نہیں سکتا کہ محمد ﷺ کے باغ کا کوئی پودا ہو اور وہ بانجھ ہو۔ خود بانجھ بننا چاہے تو وہ اور بات ہے مگر صلاحیتوں کے لحاظ سے آپ کو ان صلاحیتوں سے نوازا گیا ہے جو محمد رسول اللہ ﷺ کے ساتھیوں کی صلاحیتیں تھیں جن کو خدا تعالیٰ نے رِجَالٌی نام سے یاد کیا ہے۔ رجائی کا لفظ آپ کے غلاموں کے متعلق استعمال ہوا ہے کہ یہ وہ ہے جس کے ساتھ رِجَالی ہیں ۔ وہ آیت یہ ہے کہ رِجَالٌ لَّا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ ( النور : ۳۸) رِجَالٌ کا مطلب ہے جس میں بچے پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہو۔ محض مرد مراد نہیں، عام انسان مراد نہیں اور محض نہ اس میں جنس کی کوئی بحث ہے۔ آنحضرت ﷺ کے تمام غلام خواہ وہ مرد تھے خواہ وہ عورتیں تھیں روحانی لحاظ سے سب رجائی تھے ان میں مریمی صفات تھیں، کسی اور کی احتیاج کے بغیر ان کو بڑھنا آتا تھا۔ اس لحاظ سے رِجَالٌی کا لفظ جو مریمی صفات کا مظہر ہے وہ ان معنوں میں مومنوں پر بھی عائد ہوتا ہے مومنات پر بھی عائد ہوتا ہے۔ تبھی قرآن کریم نے تمام مومنوں کی مثال خواہ وہ عورتیں ہوں یا مومن مرد ہوں مریم سے دی ہے۔ پس اگر آپ محمد ﷺ اللہ کے غلام ہیں تو خدا کہتا ہے کہ آپ کے اندر یہ صلاحیتیں موجود ہیں ، آپ کو بڑھنا آتا ہے، بڑھنا سکھایا گیا ہے، آپ کے اندر بڑھنا ودیعت فرمایا گیا ہے۔ کیوں نہیں بڑھتے ؟ اس نظر سے اگر سیکرٹری اصلاح و ارشاد اپنی جماعت کا جائزہ لے اور خدا کے ان شیروں کو بیدار کرنے کی کوشش نہ کرے اور ہر مہینے اس فکر میں غلطاں نہ رہے کہ اس مہینے میں میں نے کتنے نئے احمدی ایسے پیدا کئے ہیں جن کے اندر اپنی صلاحیتوں کا شعور پیدا ہو گیا ہے وہ اُٹھ کھڑے ہوئے ہیں ان کے اندر کا مرد جاگ اُٹھا ہے، وہ رجال علوسه