خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 86
خطبات طاہر جلدا 86 خطبه جمعه ۳۱ جنوری ۱۹۹۲ء گے کہ یہ کسی قسم کے ٹیلی ویژن کا نظارہ تھا اور وہ جو ہم دنیا کے ٹیلی وژنز پر دیکھتے ہیں وہ کس قسم کے نظارے ہوتے ہیں اور دل لازماً رفتہ رفتہ ان چیزوں کی طرف کھنچتے چلے جائیں گے کیونکہ نیکی کو اللہ تعالیٰ نے ایک طاقت عطا فرمائی ہے جو کوئی اس سے چھین نہیں سکتا۔ صلى الله ایک روایت حضرت عبداللہ بن عمرؓ اور حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے۔ اس میں انہوں نے آنحضرت ﷺ کے متعلق بتایا کہ آ۔ ابتایا کہ آپ کو ہم نے ممبر پر نے ممبر پر خطبہ دیتے ہوئے سُنا کہ لوگوں کے جمعہ ترک کرنے کی وجہ سے وہ اس حال کو پہنچ جائیں گے کہ اللہ ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا اور پھر وہ غافلوں میں جا شامل ہوں گے۔ ( صحیح بخاری کتاب الجمعة ) صلى الله پس خدا کرے کہ ہمیں توفیق ملے کہ جمعہ کی عظمت کو قائم کریں اور ایک بھی احمدی ایسا نہ ہو جو آنحضرت ماہ کے اس انذار کا مصداق بنے اور خدا کرے کہ باقی دنیا میں بھی رفتہ رفتہ یہ رابطے قائم اور مضبوط ہوں اور گھر گھر میں جمعہ کی برکتیں پہنچیں ۔ اس کا تبلیغ عالم کے ساتھ جو گہرا تعلق ہے اس سلسلہ میں میں کچھ خطبات پہلے دے چکا ہوں اور انشاء اللہ آئندہ جب بھی توفیق ملے گی میں مزید بیان کروں گا کیونکہ جمعہ کا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ سارے عالم کو ایک ہاتھ پر اکٹھا کیا جائے ۔ جو مقدر ہے وہ تو ہے ہی لیکن اس مقدر کا ہماری تدبیروں سے ایک گہرا تعلق ہے اور جس احمدی نسل کو زیادہ قوت اور خلوص کے ساتھ اور زیادہ حکمت کے ساتھ وہ تدبیریں سوچنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق ملے گی روحانی پھل انہی کے مقدر میں ہو گا وہ سارے وعدے انہی کے حق میں پورے ہوں گے۔ خدا کرے کہ ہماری یہ نسل وہ نسل نکلے جس کو خدا کے فضل کے ساتھ یہ توفیق ملے کہ قرآن کریم میں مندرج جمعہ سے متعلق پیشگوئیاں اور احادیث میں درج شدہ جمعہ سے متعلق پیشگوئیاں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ظاہر فرمائی گئی جمعہ سے متعلق پیشگوئیاں تمام تر ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں اور یہ نسل مبارک اور غیر معمولی سعادتوں والی وہ نسل ثابت ہو جو خود خدا کے ساتھ گہرا تعلق قائم رکھتے ہوئے یہ عظیم الشان فیض حاصل کرے اور پھر ہمارے ہاتھوں سے ساری دنیا کو یہ فیض نصیب ہو ۔ ہم وہ کوثر بن جائیں جو محمد رسول اللہ ﷺ کی کوثر ہے جس کا فیض کبھی ختم نہیں ہوتا اور تمام دنیا میں اس کے فیض پھیلانے کے لئے آج ہمیں چنا گیا ہے۔ خدا کرے کہ ہم اس منصب کے اہل ثابت ہوں۔ امین ۔