خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 898
خطبات طاہر جلدا 898 خطبه جمعه ۱۸ دسمبر ۱۹۹۲ء اعتماد کیا جاتا ہے، جن کو اھل سمجھا جاتا ہے جب وہ کسی عہدہ پر فائز کر دیئے جائیں تو ان کو خدا تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ وہ پھر انصاف سے فیصلہ کریں اِنَّ اللهَ نِعِمَّا يَعِظُكُم بہم اللہ بہت ہی اچھی نصیحت کرنے والا ہے کیسی پیاری نصیحت فرماتا ہے۔ اِنَّ اللهَ كَانَ سَمِيعًا بَصِيرًا اللہ بہت سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔ اس مضمون سے متعلق کچھ اور کہنے سے پہلے میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ گزشتہ خطبہ میں جب صلى الله عروسة میں نے یہ بیان کیا کہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے سوا مجھے تمام نبیوں کی تاریخ میں ایک بھی اور نبی دکھائی نہیں دیا جس کو خلق خدا امین کہتی ہو جس کی امانت اور دیانت کی شہرت ایسی عام ہو گئی ہو کہ قوم اسے دیکھ کر امین ، امین پکار اٹھے اس پر کسی نے مجھے توجہ دلائی کہ حضرت موسی کے متعلق بھی ایک عورت کی گواہی ہے کہ وہ قومی اور امین ہیں حالانکہ ان دو باتوں میں بہت نمایاں فرق ہے۔ کہاں یہ کہ پوری قوم جس کے ساتھ ایک شخص کا واسطہ پڑتا ہو بچپن سے لے کر جوانی تک اس نے اس کو ہر حال میں دیکھا ہو وہ بے اختیار یک زبان ہو کر کسی کو امین کہتی رہے اور کہاں یہ قصہ جس کی اس کے ساتھ کوئی نسبت نہیں کہ حضرت موسی نے جب دو بیچاری بچیوں کے ریوڑ کو پانی پلایا تو انہوں نے گھر جا کر اپنے باپ سے یہ حکایت بیان کی اور بتایا کہ ہم سے ایک نیک دل آدمی نے کیا سلوک کیا اور ساتھ ہی یہ مشورہ بھی دیا کہ ان کو اپنے پاس رکھ لو، کام آئے گا اور اس ضمن میں کہا کہ قوی بھی ہیں اور امین بھی ہیں تو حضرت موسی سے جو واسطہ تھا وہ محض چند لمحوں کا سرسری واسطہ تھا اور پھر ایک لڑکی کی گواہی تھی اور اس گواہی میں دراصل ایک دفاع تھا، ایک نفسیاتی کیفیت تھی جس کا اظہار کیا گیا گیا ہے۔ ایک لڑکی اپنے باپ سے جب کسی مرد کو ملازم رکھنے کی بات کرتی ہے تو اس کے شعور کے پس منظر میں ضرور یہ سوال پیدا ہو گا کہ میرا باپ کیا سوچے گا کہ کسی قسم کا آدمی ہے، کس کی سفارش کر رہی ہے تو ان چند لمحوں میں اس بچی نے حضرت موسی کے کردار کا جو اندازہ لگایا تھا اس اندازے کو اس طرح پیش کیا کہ اسے گھر میں رکھنے سے کوئی خطرہ نہیں ہے ۔ ہم نے تو جہاں تک دیکھا ہے وہ قوی ہے اور امین ہے قومی سے مراد ہے کہ اپنی امانت کی حفاظت کرنا بھی جانتا ہے، کوئی ایسا کمزور انسان نہیں جو آج کچھ ہو اور کل کچھ۔ متلون مزاج آدمی اگر امین بھی ہو تو اس کی امانت کا اعتبار نہیں رہتا۔ ایک بات تو یقیناً ہے کہ حضرت موسیٰ کے کردار میں ایسی عظمت پائی جاتی تھی کہ اسے دیکھ کر ایک بچی نے موقع کے