خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 884
خطبات طاہر جلداا 884 خطبه جمعه ۱۱ دسمبر ۱۹۹۲ء تو اس حد تک اس سے انتقام لینا جائز ہے کہ اس ظالم کو پکڑ کر آگ میں پھینکا جائے اور اسی طرح اس کو موت کی سزادی جائے جس طرح اس نے ایک مظلوم انسان کو ناحق موت کے منہ میں جھونکا تھا لیکن اس کی جگہ کسی اور مقام پر کسی اور معصوم کو پکڑ کر اس سے وہی سلوک کیا جائے یہ تو کسی قیمت پر کسی پہلو سے بھی جائز فعل قرار نہیں دیا جا سکتا۔ قرآن اس کی مذمت فرماتا ہے۔ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا اسوہ حسنہ اس کی مذمت فرماتا ہے۔ کبھی حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ نے ایک ظالم اور خبیث کا بدلہ کسی اور معصوم سے نہیں لیا۔ پھر عالم اسلام تو عبادت گاہوں کے تقدس کی حفاظت کرتا ہے ظلم کی حد ہے کہ ایک جگہ اگر بعض مساجد جلائی گئیں تو دوسری جگہ ان کی عبادتگاہیں مسمار کر دی گئیں اس کا نتیجہ کیا نکلا؟ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جن پر ایک یا دو مسجدیں منہدم ہوئی تھیں ہندوستان میں جب مسلمانوں نے مندر جلانے کا ردعمل دکھایا تو بیسیوں اور مساجد اس کے نتیجہ میں منہدم کر دی گئیں ۔ یہ ایک موٹی عقل سے تعلق رکھنے والی بات ہے۔ عقل کا تقاضا ہے کہ انسان صورت حال کا جائزہ لے کر ایسا انتقام نہ لے جس سے اس کے مظلوم بھائی اور مصیبتوں میں مبتلا ہو جائیں ۔ جس گھر کے تقدس کی خاطر یعنی خدا کے گھر کے تقدس کی خاطر وہ کوئی اقدام کرتا ہے تو ایسی جوابی کاروائی تو نہیں ہونی چاہئے کہ اور بھی کثرت سے خدا کے گھر منہدم کروائے جائیں۔ پس یہ ایک جاہلانہ فعل ہے اگر عالم اسلام یہ رد عمل دکھاتا کہ ان کو کہتا کہ اگر تم انسان نہیں ہو تو ہم تو انسان ہیں۔ تمہاری تربیت بتوں نے کی ہے (اگر کوئی بت ہیں) لیکن ہماری خدائے واحد لاشریک نے تربیت کی ہے، ہماری محمد رسول اللہ ﷺ نے تربیت کی ہے، ہم ان بدبختیوں میں مبتلا نہیں ہو سکتے جن میں تم ہو رہے ہو۔ اگر خدا ہمیں طاقت دے تو ہم ظالم سے اس کے ظلم کا بدلہ لے سکتے ہیں لیکن جاہلانہ طور پر جرم کوئی اور کرے اور اس کی سزا کسی اور کو دی جائے اس کی ہمارا مذہب اجازت نہیں دیتا۔ اگر یہ اقدام کرتے اور ان کی عبادت گاہوں کی حفاظت کرتے خواہ وہ کسی قسم کی عبادتگاہیں ہوں تو یقیناً اللہ کی نصرت ان کی تائید میں ظاہر ہوتی آج جو مظالم ہوئے ہیں ان کا عشر عشیر بھی ظاہر نہ ہوتا ۔ الله امر واقعہ یہ ہے کہ جو ہندو انتہا پسند ہے اس نے عمداً اس نیت سے یہ شرارت کی تھی کہ سارے ملک میں اس طرح آگ لگ جائے مسلمانوں کا رد عمل ہو پھر ہم ہندوؤں کو اور بھڑکائیں اور