خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 870 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 870

خطبات طاہر جلداا 870 خطبه جمعه ۱۴ دسمبر ۱۹۹۲ء جائیں گے اسی حالت میں آپ نے جانیں دینی ہیں۔ پھر آپ کو سمجھ آئے گی کہ امانت کیا ہوتی ہے، پھر امانت کے نام پر آپ کو بلایا جائے گا اور اُس وقت جھنڈے لگیں گے آپ کی پیٹھوں کے پیچھے جو خائنوں کے جھنڈے ہیں، جو حضرت اقدس محمد مصطفی علی کو دکھایا گیا آسمان کی طرف ، خدا تعالیٰ کی عروسه صلى طرف، ہر بدترین خائن کے پیچھے ایک جھنڈا لگے گا اور بتایا جائے گا کہ اُس نے کس کس امانت میں خیانت کی ہے۔ عبادت گاہوں کی حرمت کو قائم کرنا ، اُن کا احترام کرنا تو اسلام کی امتیازی شان تھی ۔ صلى آنحضرت کو تو قرآن کریم نے یہ حکم دیا ہے کہ اس جگہ تو نماز نہ پڑھ تیری شان کے لائق نہیں ۔ بعد میں جو کارروائی حدیثوں میں درج ہے اُس سے بھی یہی پتا چلتا ہے کہ وہ کارروائی واضح طور پر اللہ تعالیٰ کے اشارے پر ہوئی ۔ آج جبکہ ان ملانوں کے نزدیک وحی کے رستے ہی بند ہو چکے ہیں ان کو کون اشارے کر رہا ہے۔ ان کا تو عقیدہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اب کوئی وحی کے ذریعے پیغام نہیں ملے گا لیکن ان کا عقیدہ یہ بھی ہے کہ شیطانی و حیاں جاری ہیں، شیطانی القاء القاء کا سلسلہ بند نہیں ہوا۔ اب بتائیں کہ مسجدوں کو کس القاء پر منہدم کرتے ہیں ، کون ہے جو ان کو اشارے کر رہا ہے اور ان کوکس کر کو دکھا رہا ہے کہ اس مسجد کو بھی برباد کر دو ، اس مسجد کو بھی برباد کر دو۔ اندھیر نگری ہے ان لوگوں کو حیا نہیں۔ یہ نہیں سوچتے کہ اسلام کو اس طرح کتنا بدنام کرتے ہیں اور اسلام کے دفاع کے لئے کوئی دلیل باقی نہیں رہنے دیتے ۔ بابری مسجد کا سلسلہ ہے دیکھ لیجئے ، ایک مشر کا نہ حکومت وہاں قائم ہے، اُس حکومت کی ساکھ داؤ پر لگ گئی ، اُس حکومت کو مشرک اکثریت کی طرف سے چیلنج دیا جا رہا ہے کہ ہمیں یہ مسجد منہدم کرنے دو ورنہ ہم ملک میں بغاوت کی آگ بھڑکا دیں گے، تمہاری حکومت کو پارہ پارہ کر دیں گے لیکن آج تک تو وہ حکومت اس بات پر قائم ہے، اس اصول پر قائم ہے کہ خدا کے نام پر بننے والی عبادت گاہوں کی حفاظت ہمارا فرض ہے یہ مشرکوں کا حال ہے۔ پاکستان میں کتنی مسجدیں ہیں جو منہدم کی گئیں، کتنے خدا کے گھر ہیں جو مسمار کئے گئے، کتنے ہیں جن کو واپس کیا گیا اُن لوگوں کو اور اُن کے نقصانات کی ذمہ داری قبول کی گئی، انہیں دوبارہ آباد کر کے دکھایا گیا۔ حال یہ ہے جیسا کہ میں نے بیان کیا بنگلہ دیش میں یہی پاکستانی ملاں ہے جس نے پہنچ کر فساد برپا کروایا ہے اور بڑے ہی قابل اعتماد ذرائع