خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 801 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 801

خطبات طاہر جلدا 801 خطبه جمعه ۶ رنومبر ۱۹۹۲ء تم سے کیا مطالبے کر رہا ہے۔ اپنی راہ چن لو تم نے محمد مصطفیٰ" کے ساتھ رہنا ہے یا ملاں ۔ ہے یا ملاں کے پیچھے چلنا صلى الله ہے۔ آنحضرت ﷺ کے زمانے میں ایک جہاد کے دوران ایک نامی پہلوان سے ایک مسلمان مجاہد کا مقابلہ ہوا اور بڑی مشکل کے ساتھ بالآخر اس نے اس پہلوان کو زیر کیا اور زیر کر کے جب وہ قتل کرنے لگا تو اس نے اعلان کیا کہ لَا اِلهَ اِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ بھی نہیں کہا۔ صرف لا إِلهَ إِلَّا الله یعنی یہ جو کہتے ہیں نبوت کی شرط ہے ، نبوت میں فوقیت شامل ہے یہ سب اوٹ پٹانگ دلیلیں بنانے کی کوشش کرتے ہیں جو میں واقعہ بیان کر رہا ہوں اس واقعہ میں حدیث سے ثابت ہے کہ اس نے صرف اتنا کہا تھا کہ لَا إِلَهَ إِلَّا الله اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ صلى الله اس مسلمان مجاہد نے پھر بھی اسے قتل کر دیا۔ واپس آکر بڑے فخر کے ساتھ آنحضرت ﷺ کے حضور یہ واقعہ پیش کیا کہ یا رسول اللہ ! آج یہ واقعہ پیش ہوا ہے۔ میں جانتا تھا کہ جھوٹ بول رہا ہے جان بچانے کے لئے ایسا کر رہا ہے میں نے اسے قتل کر دیا۔ ان کی اپنی روایت ہے کہ حضرت اقدس محمد مصطفی ہے صلى الله وسه اتنے ناراض ہوئے کہ میں نے ساری زندگی میں کبھی آپ کو اتنا ناراض نہیں دیکھا۔ بار بار یہ کہتے تھے افلا شققت عن قلبه، افلا شققت عن قلبه - (مسلم کتاب الایمان حدیث نمبر : ۱۴۰) او بد نصیب تو نے دل پھاڑ کر کیوں نہیں دیکھ لیا کہ اس کے دل میں اسلام تھا کہ نہیں تھا۔ اتنا کہا کہ میں نے حسرت کی کاش اب یہ کہنا بند کر دیں۔ ایک اور روایت میں ہے کہ میں نے حسرت سے اس بات کی خواہش کی کاش میں آج سے پہلے مسلمان ہی نہ ہوا ہوتا کہ محمد رسول اللہ کی ایسی شدید ناراضگی مجھے نہ دیکھنی پڑتی اور پھر ایک اور روایت میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اس روایت کوسن کر یہ فرمایا کہ تو قیامت کے دن کیا جواب دے گا جب اس شخص کا لا إِلهَ إِلَّا الله جسے تو نے قتل کیا ہے قیامت کے دن تیرے سامنے گواہ بن کر کھڑا ہو جائے گا کہ تو نے ایک ایسے بندے کو قتل کیا ہے جو لا إِلهَ إِلَّا الله پڑھ رہا تھا اور تو نے اسے تسلیم نہیں کیا۔ صلى الله تو احمدی تولا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ کا ورد کرتے ہیں اور ورد جان ہے یہ کلمہ اُن کا۔ اس کلمہ کی خاطر جان و مال اور عزتوں کی قربانیاں پیش کر رہے ہیں۔سالہا سال سے پاکستان کی گلیوں نے یہ گواہیاں دی ہیں کہ اس کلمہ کی حفاظت اور عزت کی خاطر احمدی اور کسی چیز کی پرواہ نہیں کرتے ۔ جیلوں میں ٹھونسے گئے مارے گئے ، گلیوں میں گھسیٹے گئے ، ان کی عزتیں لوٹی گئیں ان کے