خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 775
خطبات طاہر جلدا 775 خطبه جمعه ۳۰ را کتوبر ۱۹۹۲ء پھر اس کے بعد ہے جو 3503 ہے اور پھر آتا ہے کینیڈا 2500 اور باقی پھر درجہ بدرجہ اس سے کم ہیں۔ یہ تو ہیں اعداد و شمار اور میں امید رکھتا ہوں کہ ان اعداد و شمار کو سن کر مختلف جماعتوں میں تحریک پیدا ہوئی ہوگی۔ تفصیل سے ساری جماعتوں کے اعداد و شمار بیان کرنے کا تو یہاں موقع نہیں ہے۔ یہ چند نمونے ہیں آپ کو بتانے بتانے کے لئے مختلف زاویوں ، زاویوں سے جب ہم دیکھتے ہیں تو ہیں تو کسی پہلو سے کوئی جماعت ترقی کر کے آگے نکل جاتی ہے اور کسی پہلو سے کوئی دوسری جماعت آگے بڑھنے کی توفیق پاتی ہے۔ دراصل تو دلوں پر نگاہ رہنی چاہئے ، دلوں میں اگر اخلاص بڑھ رہا ہو تو قربانی کے ظاہری پیمانے در حقیقت اُسی کا منظر پیش کرتے ہیں۔ ہمیں روپے کے اعداد و شمار میں بذات خود دلچسپی نہیں ہے۔ میں تو کبھی ان اعداد و شمار کو روپوں کی گنتی کے طور پر نہیں پڑھتا بلکہ پیمانہ سمجھ کر پڑھتا ہوں کیونکہ جس جماعت نے محض اللہ خدا کی خاطر قربانیاں کرنی ہے اُن کو اگر زیادہ قربانی کی توفیق ملتی ہے تو صاف پتا چلتا ہے کہ دلوں میں اخلاص کا معیار بڑھ رہا ہے ورنہ اس دنیا میں مال کی ایسی محبت پائی جاتی ہے کہ دنیا کی بڑی سے بڑی حکومتیں جو انکم ٹیکس وصول کرنے کے لئے بہت ہی مضبوط نظام رکھتی ہیں وہ بھی ہار جاتی ہیں ۔ انکم ٹیکس چوری کرنے والے اور روپیہ بچانے والے لوگ بڑی بھاری تعداد میں ہر ملک میں پائے جاتے ہیں جو قابو نہیں آتے ، بہت کم ہیں جو قابو آتے ہیں سزا پاتے ہیں۔ لیکن جماعت احمد یہ میں تو کوئی جبری نظام نہیں ہے۔ یہاں تو جو بھی خدا کی راہ میں قربانی کرتا ہے اپنے دل کے جذبے کے نسبت سے کرتا ہے۔ پس کوئی غلط فہمی سے یہ نہ سمجھے کہ میں یہ اعداد و شمار، اعداد و شمار کرنے کی خاطر پیش کر رہا ہے ہرگز یہ مراد نہیں۔ میرے نزدیک تو مالی اعداد و شمار کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ محض اُس وقت یہ عزت پاتے ہیں جب ان کی جڑیں خدا تعالیٰ کی محبت میں ہوں اور خدا تعالیٰ کی محبت میں جڑیں ہوں تو ایک پیسہ بھی باعث عزت اور قابل قدر ہو جاتا ہے۔ اور ایسے پیسے ضرور ہیں انسانی قربانیوں کی تاریخ میں جن کی قدر خدا کے نزدیک کروڑوں اربوں سے بھی زیادہ ہوگی کیونکہ قربانی پیش کرنے والے نے یہ پیسہ بڑی محبت سے پیش کیا ہے۔ پس دلوں پر نظر رکھیں ، اپنے اخلاص کی حفاظت کریں۔ اس روپے کے پیچھے تقویٰ کی پرورش کریں اگر تقومی ترقی کرتا رہے اللہ کی محبت پرورش پاتی رہے تو پھر خدا کے فضل کے ساتھ چندوں کے معاملے میں جماعت ہمیشہ بے فکر رہے گی اور خدا ہمیشہ ہماری ضرورتیں خود پوری کرتا رہے گا پس مقابلے کی جو تحریکات ہیں یہ اپنی جگہ درست