خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 767
خطبات طاہر جلدا 767 خطبه جمعه ۳۰ را کتوبر ۱۹۹۲ء جن لوگوں کو غنی دل عطا کر دے، خدا تعالیٰ جن لوگوں کو اپنی راہ میں قربانی کے چسکے عطا فرمادے، قربانی کے مزے عطا کر دے، اُن کے لئے یہ سوال نہیں ہوا کرتا پیسے کہاں سے آئیں گے۔ رازق اللہ تعالیٰ ہے جو اپنی راہ میں خرچ کی توفیق عطا فرماتا ہے۔ وہ توفیق بھی بڑھاتا چلا جاتا ہے اور جماعت کے اموال میں عموماً ہمیشہ ترقی ہی ہوتی رہی ہے۔ تحریکات کے نتیجے میں جماعت کسی غربت میں مبتلا نہیں ہوئی۔ پس یہی سلوک جماعت احمدیہ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا جاری وساری ہے۔ ہماری دعا ہے کہ ہمیشہ یہ سلوک جاری وساری رہے اور جیسا کہ میں دیکھ رہا ہوں جماعت اب مالی قربانیوں کے لئے ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے اور بعض ایسی ایسی عظیم قربانیوں کے لئے تیار ہے کہ جن کے متعلق چند سال پہلے بھی میں سوچ نہیں سکتا تھا۔ اب جب ہم نے عالمی پیمانے پر مواصلاتی سیارے کے ذریعہ ٹیلی ویژن کے صوتی اور تصویری نظام سے فائدہ اٹھایا اور خطبات کے Televise کرنے کا سلسلہ جاری ہوا تو شروع میں جو خرچ اتنا بڑا دکھائی دیتا تھا کہ سمجھ نہیں آتی تھی کہ کیسے پورا ہو گا مگر جرمنی کی ایک ہی جماعت نے پر لبیک کہتے ہوئے کہا کہ آپ خرچ کی پرواہ نہ کریں یہ جتنا خرچ ہے وہ اکیلے جڑ جماعت ادا کرے گی اور پھر فوراً اُس وعدے کو پورا کیا اور بھی یاد بھی کرانے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ کینیڈا میں جب مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک اور موقع میسر آیا جس سے استفادے میر کے لئے پروگرام بنایا جا رہا ہے تو وہ موقع بہت ہی اعلیٰ اور قیمتی موقع ہے اس سے انشاء اللہ تعالیٰ ہم ضرور فائدہ اٹھائیں گے مگر اخراجات اتنے زیادہ تھے کہ اُن کے تصور سے ہی آدمی پریشان ہوتا تھا کہ اتنی بڑی رقمیں آئیں گی کہاں سے۔ تو کینیڈا کے اور امریکہ کے امیر صاحبان سے میں نے ذکر کیا تو کینیڈا کے امیر صاحب نے فوری طور پر جماعت کینیڈا کی طرف سے پانچ لاکھ ڈالر سالانہ کا وعدہ کر دیا اور بڑے اطمینان سے کہا کہ میں مشورہ کرنے کے بعد بتا رہا ہوں۔ ہم انشاء اللہ تعالیٰ اس وعدے پر قائم رہیں گے اور اسی طرح امریکہ کے امیر صاحب نے بھی فرمایا کہ جب میں واپس جاؤں گا تو جماعت کے سامنے یہ بات رکھوں گا اور میں امید رکھتا ہوں کہ کینیڈا سے ہم پیچھے نہیں رہیں گے تو وہ بڑی رقم جو بہت ہی بڑی دکھائی دیتی تھی۔ اُس کا ایک حصہ ان دو وعدوں نے پورا کر دیا میں سمجھتا ہوں کہ انشاء اللہ جب یہ تحریک تمام امراء تک پہنچائی جائے گی ، تمام ملکوں کو پہنچائی جائے گی تو جتنی