خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 763 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 763

خطبات طاہر جلداا 763 خطبه جمعه ۲۳ راکتو بر ۱۹۹۲ء ان چیزوں سے احتراز کرے اور مسجد کی پاکیزگی کی خاطر اگر مسجد میں آنا فرض ہے تو پھر وہ ضرور اپنا کپڑا اور اپنی حفاظت کا سامان ساتھ لایا کرے۔ جو شائستہ مہذب قو میں ہیں ان میں یہ رواج ہے کہ وہ اپنی بیماری کو دوسروں تک نہیں پھیلاتیں ۔ آپ جاپان میں جائیں تو وہاں ہر آدمی نے جب اُس کو نزلہ ہوا ہو اپنے اوپر سفید کپڑا باندھا ہوتا ہے۔ میں جب جاپان گیا تھا تو بعض لوگوں کو سفید کپڑا باندھے ہوئے دیکھ کر تعجب ہوتا تھا یعنی اتنے حصے پر سفید کپڑا باندھا ہوا تھا تو پتا لگا کہ وہ نزلے کے مریض ہیں وہ نہیں چاہتے کہ ان کا نزلہ دوسروں کو لگے۔ لیکن یہ ادب مسجد نے سکھایا ہے کہ اپنی بد بو دوسروں تک نہ پہنچاؤ جیسے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ مسجد میں پیاز کھا کر نہ آیا کرو۔ گندے ڈکار نہ لیا کرو۔ نمازیوں کو اپنی تکلیف سے محفوظ رکھو ۔ ( بخاری کتاب الاطعمہ حدیث نمبر :۵۰۳۲) اس سبق کو مسلمانوں کو اپنی ساری زندگی پر جاری کرنا چاہئے تھا جیسے کہ میں نے دیکھنے کا مضمون بتایا اور نماز میں سیکھا اور عارف باللہ نے اس کو اپنی ساری زندگی جاری کر دیا لیکن مسلمان نہیں کرتے اور غیر کرتے ہیں اور خاص طور پر ہماری عورتوں میں تو یہ بیماری بہت ہی ہے کہ وہ اپنے بچوں کی بیماریاں دوسروں تک پھیلاتی چلی جاتی ہیں۔ کوئی پرواہ نہیں کرتیں۔ جلسے کے دنوں میں ایک خاتون اپنا بچہ لے کر آئیں جس کو سخت کالی کھانسی تھی اور عام کھانے کی میز پر اس کو بٹھایا ہوا تھا۔ وہیں سے وہ علاج کے لئے لے کر آئیں اُن سے میں نے کہا کہ آپ کے بچے کو کالی کھانسی ہے تو کہنے لگیں کوئی بات نہیں جلسہ تو سنا ہی ہے۔ میں نے کہا جلسہ سننے کا یہ مطلب نہیں کہ دوسروں کو سننے کے لائق نہ رہنے دیں۔ کالی کھانسی پھیلانے کا آپ کو کیا حق ہے۔ بعض عورتیں ہیں جن کے بچوں کو لاکڑا کا کر انکلا ہوا ہو اور منہ پر چھالے ابھی ہرے ہی ہوتے ہیں ان کو لے کر پھرتی ہیں اور بالکل پرواہ نہیں کرتیں کہ دوسرے بچوں کو لگے گی ۔ پس مسجد نے جو آداب سکھائے ہیں وہ جیسا کہ میں نے پہلے بیان کیا تھا آپ کی ساری زندگی پر حاوی ہیں ان آداب کو مسجد میں قائم کر دیں اور ان کے فلسفے سے اپنی نسلوں کو خوب اچھی طرح آگاہ کریں تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے مسجد سے تعلق رکھنے والی قوم دنیا کی سب سے عظیم اور متمدن قوم ہوگی کیونکہ اس قوم کو خدا اور اس کے رسول نے آداب سکھائے ہیں۔ کوئی دنیا کی قوم آپ کے پاسنگ کو نہیں پہنچ سکتی۔ اعلیٰ درجے کے اخلاق اور اعلیٰ درجے کے اصول معاشرت میں اور نظام جماعت کے حقوق کے تعلق میں جو کچھ اللہ اور اس کے رسول نے ہمیں مسجد میں سکھا دیا