خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 761
خطبات طاہر جلدا 761 خطبه جمعه ۲۳ راکتو بر ۱۹۹۲ء جائے گی اور وہ تصور ہماری زندگی پر غالب آتا چلا جائے گا۔ بعض اور احکامات اسی سے تعلق رکھنے والے ہیں ( میں کچھ حدیثیں نقل کر کے ساتھ لایا تھا اگر کوئی بات میرے بیان سے رہ گئی ہو تو میں دیکھتا ہوں شاید ان میں ذکر مل جائے ) ہاں۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ مسجدوں میں خرید و فروخت کی بات کوئی نہیں کرنی (ترمذی کتاب الصلوۃ حدیث نمبر: ۲۹۶) صرف خدا سے سودے ہیں انسانوں سے سودے یہاں بند ہو جانے چاہئیں ۔ مسجد کو ہر قسم کی گندگی سے پاک اور صاف رکھنا چاہئے اسی لئے حکم ہے کہ عورتیں جب اُن کے ایام ہوں احتیاط کریں کیونکہ یہ احتمال ہے کہ کوئی قطرہ خون مسجد پر لگ جائے یا گندگی گر جائے اس لئے ان کو فرمایا گیا ان دنوں میں مسجد نہ آئیں ۔ مسجد کی صفائی کے متعلق اتنی اہمیت ہے کہ حضرت ابراہیم اور آپ کے بیٹے حضرت اسماعیل دونوں کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ أَنْ طَهِّرَا بَيْتِي (البقرہ:۱۲۶) میرے گھر کو تم دونوں مل کر صاف رکھا کرو اس طرح مسجد کی صفائی کو اتنی اہمیت دی کہ وہ جو خدا تعالیٰ کی طرف سے تمام دنیا اور آئندہ نسلوں کے لئے امام بنائے گئے تھے ان کو اور حضرت اسماعیل جو نبی اللہ تھے فرمایا کہ آنے والوں کے خیال سے ، عبادت کرنے والے، اعتکاف بیٹھنے والے اور مسجد کا طواف کی غرض سے آنے والوں کے لئے تم دونوں اس مسجد کو صاف کیا کرو ۔ آنحضرت ﷺ کو بھی مسجد کی صفائی سے بہت پیار تھا اور بڑی محبت کی نظر سے ان لوگوں کو دیکھتے تھے جو مسجد کی صفائی کیا کرتے تھے۔ ایک واقعہ ہے آپ کو اندازہ ہو گا۔ ایک ایسی خاتون جس کی سوسائٹی میں کوئی قدر نہ ہو۔ وہ عام لونڈی ہو اور اپنی ظاہری شکل وصورت میں یا مالی لحاظ سے ایسی غربت میں ہو کہ اُس کی کوئی قدر و قیمت نہ ہو اس کے لئے مسجد کی صفائی میں ہی عزت ہے۔ اگر اور کچھ نہیں کر سکتی تو مسجدیں ہی صاف کرے اور اس سے اُس کو کتنی عزت مل سکتی ہے اس کا خیال میں آپ کو بتاتا ہوں حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے زمانہ میں ایک ایسی عورت جو دنیا کی نظر میں قابل قدر نہیں تھی وہ مسجد صاف کیا کرتی تھی دو تین دن نظر نہ آئی تو آنحضرت ﷺ نے پوچھا وہ عورت کہاں گئی ، دکھائی نہیں دی۔ ۔ صحابہ نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ ! وہ تو فوت ہو گئی ہے اس پر حضور اکرم ا سخت بے چین صلى الله عروسه لو ں دی۔ ہوئے کہ فوت ہو گئی تھی تو مجھے کیوں نہ بتایا ۔ اسی وقت اس کی قبر پر تشریف لے گئے اس کی نماز جنازہ پڑھی اور اس پر دعا کی (مسلم کتاب الجنائز) تو دیکھیں کہ عام خاتون جس کو دنیا کی نظر میں بھی کوئی مقام