خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 758
خطبات طاہر جلداا صلى الله 758 خطبه جمعه ۲۳ راکتو بر ۱۹۹۲ء اہیے۔ اُن میں حضرت ان رت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ نے یہ فرمایا کہ جب امام تلاوت کر رہا ہو تو جو ۔ نمازی پیچھے کھڑے ہوں وہ پیچھے پیچھے ایسی آواز میں تلاوت نہ کیا کریں (ابوداؤ د کتاب الصلاۃ حدیث نمبر:۷۰۲ ) کہ جس کے نتیجہ میں امام کے اوپر بھی اثر پڑتا ہے اور اس کی تلاوت اور توجہ میں خلل واقع ہوتا ہو چنانچہ اسی پر فقہا نے یہ مسئلہ بنایا ہے کہ جن نمازوں میں اونچی قرآت ہے وہاں نمازیوں کو خاموشی سے سُننا چاہئے لیکن اس کے علاوہ اور بہت سے احکام ہیں جن کا اجتماعی زندگی سے تعلق ہے، اجتماعیت سے تعلق ہے مثلاً اگر نماز میں امام غلطی کرتا ہے تو نمازی کا یہ کام نہیں ہے کہ اپنی نماز میں اس غلطی کی اصلاح خود کرلے بہت ہی اہم اور گہرا حکم ہے اس میں امام کی اطاعت کا ایک بہت گہرا اور قوموں کو زندہ رکھنے والا راز بیان فرمایا گیا ہے ۔ امام تمہارا لیڈر بنایا گیا ہے اس کے پیچھے تم نے چلنا ہے ۔ وہ خدا کے حضور حاضر ہے، خدا کے ادب کے تقاضے پورے کر رہا ہے اور اس سے کوئی بشری غلطی ہو جاتی ہے تو اگر کوئی انسان اس بشری غلطی پر اس سے اپنا تعلق تو ڑ لیتا ہے تو امام سے ہی نہیں خدا سے بھی اپنا تعلق توڑتا ہے کیونکہ جس کو امام بنالیا جائے وہ خدا کے حضور تمہاری نمائندگی کر رہا ہے، اس لئے بظاہر یہ عجیب بات ہے کہ غلطی کا پتا ہے پھر بھی کر رہے ہیں لیکن یہی حکم ہے اور اتنا واضح ہے کہ تمام عالم اسلام میں فقہی اختلافات کے باوجود اس بارے میں ایک ذرہ بھی کوئی اختلاف نہیں پایا جا تاسنی ، شیعہ سارے اس بات پر متفق ہیں کہ اگر امام سے غلطی ہو جائے اور امام غلطی درست نہ کرے تو تمام مقتدیوں کا کام ہے کہ بلا چوں و چرا اس غلطی میں اس کی متابعت کریں۔اس موقع پر اس کو کیا کہنا چاہئے کس طرح کہنا چاہئے ، اس کے متعلق فرمایا سبحان اللہ پڑھواب یہ سبحان اللہ پڑھنا خود ایک بہت ہی گہرا عارفانہ حکم ہے۔ جس پر غور کریں تو طبیعت عش عش کر اُٹھتی ہے۔ سبحان اللہ کا مطلب ہے صرف اللہ غلطی سے پاک ہے۔ ایک طرف امام کو یہ پیغام مل گیا کہ اس سے کوئی غلطی ہوگئی ہے۔ یہ بتایا گیا کہ ہم تمہاری غلطی تو سمجھ گئے ہیں لیکن تمہیں نیچی نظر سے نہیں دیکھ رہے ۔ ہم تمہیں کسی لحاظ سے بھی تخفیف کی نظر سے نہیں دیکھ رہے ۔ ہمیں یہ تربیت دی گئی ہے کہ صرف خدا ہے جو غلطی سے پاک ہے۔ پس کتنے ادب اور احترام کے ساتھ ایک غلطی کرنے والے امام کی غلطی کی طرف اُسے متوجہ فرمایا گیا ہے اور دوسرا پیغام سبحان اللہ خود اس انسان کو دیتا ہے جس نے غلطی پکڑی ہے اور اس میں دو پیغام ہیں۔ ایک یہ کہ تم سمجھتے ہو کہ اس نے غلطی کی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ تم غلطی پر ہو۔ اس