خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 751
خطبات طاہر جلدا 751 خطبه جمعه ۲۳ راکتو بر ۱۹۹۲ء اگر آپ غور کریں تو کئی قسم کے شیطان ہیں جو آجاتے ہیں ۔ اول تو یہ کہ قوم میں خلاء پیدا ہو جائے تو قوم کمزور ہو جاتی ہے اور جب آپس میں دوری بڑھے تو فتنہ پرداز ایسے موقع پر وساوس پھونکتے ہیں اور بھائیوں کو بھائیوں سے جدا کرتے ہیں ۔ پس نماز میں اکٹھے ہو جانا اور اخوت کی ایک ایسی مثال قائم کرنا کہ جس میں درمیان میں کوئی بھی رخنہ نہ ہو، کوئی بھی فاصلہ بیچ میں نہ ہو ۔ اس کا بھی بالآخر دلوں سے تعلق ہے اور اوّل میں بھی دل سے ہی تعلق ہے ۔ جب انسان کسی دوست سے ملتا ہے تو گلے کیوں ملتا ہے اس لئے کہ اس کے بدن کے ساتھ اپنا بدن لگانا چاہتا ہے ۔ اپنے فاصلے کو کم کرنا چاہتا ہے ۔ جتنا پیار ہو اتنا ہی زیادہ ایک دوسرے میں جذب ہونے کا تصور پیدا ہوتا ہے جیسا کہ میں نے ایک دفعہ پہلے بھی فارسی کا ایک شعر اسی موقع پر سنایا تھا ۔ ه من تو شدم تو تو من شدی من تن شدم تو جان شدی تاکس نہ گوید بعد ازیں من دیگرم تو دیگری کہ میں تو ہو جاؤں تم میں ہو جائے ۔ یعنی دو وجود نہ رہیں ایک ہی وجود بن جائیں۔ تم میری روح میری جان بن کر میرے دل میں سما جاؤ۔ میں تو ہو جاؤں اور تم میں ہو جاؤں ۔ تاکہ پھر کبھی کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ میں اور ہوں اور تم اور ہو۔ تو شاعر کے تصور شاعرانہ ہی ہیں لیکن ان کا گہرا حقیقتوں سے بھی تعلق ہوتا ہے ۔ شاعر عشق میں مبتلا ہو کر نفسیات کے گہرے پانیوں میں غوطے مارتا ہے اور جتنا اچھا شاعر ہوگا وہ تبھی اچھا شاعر ہوگا کہ وہ سچائی میں ڈوب کر وہاں سے کوئی نیا موتی لے کر آتا ہے۔ تو میرا تو ہو جانا اور تیرا میں ہو جانا اور یہ تصور کہ بدن ایک ہو جائے اور تم روح بن کر میرے جسم میں سما جاؤ اور میں روح بن کر تمہارے جسم میں سما جاؤں اس کا انسانی فطرت سے ایک گہرا تعلق ہے۔ پس اگر بھائی پیارا ہے، اگر مسلمان اخوة ہیں اور آپس میں محبت ہے تو پھر فاصلے پر کیوں کھڑے ہوں گے۔ انہیں اکٹھے ہو کر کھڑے ہونا چاہئے ۔ اور خدا کی حضوری کا اس کا ساتھ یہ تعلق ہے کہ اللہ تعالیٰ کو یہ دکھایا جائے کہ جس طرح تو ایک ہے ہم بھی تیری خاطر ایک ہو چکے ہیں ۔ ہمارے درمیان کوئی فاصلے نہیں رہے۔