خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 748
خطبات طاہر جلدا 748 خطبه جمعه ۲۳ را کتوبر ۱۹۹۲ء صلى الله نتیجے میں میں خدا کا پیار پاتا ہوں ، اس کی حفاظت میں آجاتا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ جہاں بھی میں جاتا ہوں وہاں خدا کی نظر مجھ پر پیار سے بھی پڑ رہی ہے اور حفاظت کے لئے بھی پڑ رہی ہے۔ پس یہ وہ دیکھنے کا تصور ہے جسے نماز کے ساتھ گہرات اتھ گہرا تعلق ہے جیسا کہ میں نے بیان کیا حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھنے ھنے کا جو یہ راز سمجھایا اس کے ساتھ تمام آداب اب وابستہ ہیں۔ تفصیل سے میں ساری باتیں بیان کر سکوں یا نہ کر سکوں لیکن یہ حقیقت ہے کہ اس میں ایک مرکزی تصور ہے جو ادب کی جان ہے اس کے گرد ہر چیز گھوم رہی ہے۔ ایک شخص نماز میں ایک پاؤں پر زیادہ بوجھ ڈالتا ہے ایک پاؤں ڈھیلا رکھتا ہے، ایک پاؤں سخت رکھتا ہے ، ایک پاؤں ڈھیلا کر دیتا ہے، یا یوں کہنا چاہئے کہ گھٹنا اکڑا کر رکھتا ہے اور ایک گھٹنا ڈھیلا کر دیتا ہے کھڑے ہونے کی یہ طرز ایسی ہے کہ جس میں بے پرواہی پائی جاتی ہے۔ اگر کسی افسر کے سامنے کوئی جائے تو اس طرح کھڑا نہیں ہو سکتا کوئی سپاہی اپنے افسر کے سامنے اس طرح کھڑا ہو تو شاید اس کا کورٹ مارشل ہو جائے۔ صلى الله صلى الله نماز میں جب آپ بعض بچوں کو یا بڑوں کو اس طرح دیکھتے ہیں تو صاف مطلب ہے کہ ان کو خدا کی حضوری کا تصور نہیں چنانچہ آنحضرت ﷺ نے جو تفصیلی تعلیم دی ہے اس کا تمام تر اس حضوری سے تعلق ہے آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ ایک پاؤں پر بوجھ ڈال کر نہ کھڑے ہوں ( بخاری کتاب الازان حدیث نمبر : ۸۱۶ ) بلکہ سیدھے کھڑے ہوں اور رُشدی جیسے بد بخت ان باتوں پر اعتراض کرتے ہیں کہ یہ کیسا مذہب ہے؟ چھوٹی چھوٹی تفصیل میں جاتا ہے حالانکہ جب تک یہ آداب سکھائے نہ جائیں آج بھی دنیا کی متمدن قو میں ان آداب کو خود نہیں سیکھ سکتیں جو ادب حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ نے ہمیں چودہ سو سال پہلے بتایا اور سکھایا جن قوموں کو وہ نہیں سکھ سکھایا گیا وہ آج بھی اسی طرح جاہل ہیں ۔ تہذیب بہت آہستہ رفتار سے ترقی کرتی ہے لیکن الہام دماغوں کو اور دلوں کو اور طرز زندگی کو نئی روشنی بخشتا ہے اور اس روشنی سے استفادہ کرنا پھر قوموں کا کام ہے وہ اگر باہوش ہوں گی اور زندہ رہنے کی صلاحیت رکھیں گی تو اس روشنی میں لانا ضروری ہے ورنہ قو میں زندہ نہیں رہ سکتیں۔ پس یہ چھوٹی چھوٹی باتیں جنہیں بعض لوگ چھوٹی سمجھتے ہیں ایک بہت ہی گہرے مرکزی خیال یہ سے پیدا ہوتی ہیں اور یہ خیال بہت اہم ہے۔ وہ صرف نماز پر ہی نہیں زندگی کے ہر شعبہ پر حاوی ہے۔ خدا کی حضوری کے تصور کے بغیر کوئی مذہبی قوم زندہ نہیں رہ سکتی لوگوں کو زندگی نہیں بخش سکتی ۔ ۔