خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 65
خطبات طاہر جلدا 65 خطبه جمعه ۲۴ جنوری ۱۹۹۲ء وط - کا عجیب انداز ہے کہ پہلے یہ مضمون بیان فرمایا اور پھر بعد میں ان لوگوں کا ذکر کیا جن کی خاطر ان لوگوں کو برکت ملنے والی ہے ۔ فرمایا: اِنْ تُبْدُوا الصَّدَقْتِ فَنِعِمَّا هِيَ اگر تم خدا کی راہ میں اخراجات کو قربانیوں کو کھول کر پیش کرو، اعلانیہ کر دو تا کہ دوسروں کو تحریک ہو تو فَنِعِمَّا هِی ۔ إِنْ تُبْدُوا الصَّدَقْتِ فَنِعِمَّا هِی : یہ بھی اچھی بات ہے ۔ اس میں کوئی برائی نہیں وَإِنْ تُخْفُوهَا وَتُؤْتُوهَا الْفُقَرَاء فَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ لیکن اگر تم ان کو مخفی رکھو اور خدا کی راہ کے فقیروں پر خرچ کرو تو یہ تمہارے لئے بہت بہتر ہے۔ وَيُكَفِّرُ عَنْكُمْ مِّنْ سَيَّاتِكُمْ ان غریبوں کی خدمت کا جو سب سے بڑا فیض تمہیں پہنچے گا وہ یہ ہے کہ وَيُكَفِّرُ عَنْكُمْ مِنْ سَيَّاتِكُمْ اللہ تعالی تمہاری بدیاں دور کرے گا۔ تمہاری کمزوریاں دور فرمائے گا۔ پس تمام دنیا میں ہمیں تربیت کے جو مسائل درپیش ہیں خاص طور پر ترقی یافتہ یا آزاد منش ممالک میں ان کا ایک حل قرآن کریم نے یہ بھی پیش فرمایا ہے کہ خدا کی راہ میں محصور اور غرباء پر خرچ کرو اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ آپ کی کمزوریاں دور فرمائے گا اور خود تمہاری اصلاح کے سامان مہیا فرمائے گا۔ پھر فرمایا وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ ۔ یاد رکھو کہ تم جہاں بھی جو کچھ بھی خدا کی راہ میں کرتے ہو تمہارے اعمال سے خدا خوب واقف ہے۔ ہر چیز پر اس کی نظر ہے ۔ تمہارا کوئی عمل بھی ایسا نہیں جو خدا کی نظر میں نہ ہو۔ پھر فرمایا لَيْسَ عَلَيْكَ هُدُهُمْ وَلَكِنَّ اللهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ اے محمد ! تجھ پر ان کی ہدایت فرض نہیں ہے۔ تو نے پیغام پہنچانا ہے۔ نصیحت کرنی ہے اور تو بہترین نصیحت کرنے والا ہے ۔ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ ہاں اللہ ہی ہے جس کو چاہے گا ہدایت بخشے گا ۔ جس کو چاہتا ہے ہدایت عطا فرماتا ہے۔ پھر اس جملہ معترضہ کے بعد واپس اس مضمون کی طرف لوٹتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ خَيْرٍ فَلا نُفُسِكُمْ جو کچھ تم یادرکھو خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہو فلا نُفُسِكُمْ وہ دراصل اپنی جانوں پر خرچ کر رہے ہو۔ یہ نہ سمجھو کہ دوسروں پر کوئی احسان کر رہے ہو۔ تمہارا خرچ اپنے فوائد کے لحاظ سے اور برکتوں کے لحاظ سے خود تم پر ہورہا ہے۔ وَمَا تُنْفِقُونَ إِلَّا ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللهِ لیکن ہم جانتے ہیں کہ محمد مصطفی اے کے تربیت یافتہ ساتھی اپنے نفوس میں برکت کی خاطر خرچ نہیں کر رہے بلکہ اللہ کی رضا کی خاطر خرچ کر رہے ہیں۔ پس یہ مراد نہ سمجھی جائے ۔ کوئی اس غلط فہمی میں مبتلا نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ یہ تعلیم دے رہا ہے کہ اپنے صلى الله عروسه