خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 693 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 693

خطبات طاہر جلدا 693 خطبه جمعه ۲ را کتوبر ۱۹۹۲ء آزما چکے ہیں کبھی ہوا ہے کہ جماعت احمدیہ کی ترقی کو روک سکیں۔ اس کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اس لئے ساری دنیا میں جب میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت پر خدا کے فضلوں کا ذکر کرتا ہوں تو میں جانتا ہوں کہ کچھ دلوں میں آگ لگ جائے گی اور مخالفانہ کوششیں شروع ہو جائیں گی۔ ایک موقع پر مجھے کسی نے خط لکھ کر یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ آپ نام لے لیتے ہیں اور یہ پیچھے پڑ جاتے ہیں ساری جماعت کی کوششوں کو ناکام بنانے کیلئے انہی ملکوں میں کوشش شروع کر دیتے ہیں۔ میرے نفس میں بھی ہلکی سی کمزوری کا خیال آیا کہ کیوں نہ مخفی رکھ کر بات کی جائے وہ مخفی رکھ کر کام بڑھایا جائے لیکن پھر مجھے قرآن کریم کی تعلیم کی طرف توجہ ہوئی۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثُ (الضحی (۱۲) خدا جب تم پر نعمت کرتا ہے تو اس کو بیان کیا کرو ہرگز دشمن سے نہیں ڈرنا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت کا نقشہ کھینچتے ہوئے اس ہر یا ول کی طرح جو پھوٹتی ہے جس کی مزارع خبر گیری کرتے ہیں، فرمایا یہ تو اس لئے بھی پھوٹ رہی ہے کہ دشمن غیظ و غضب میں مبتلا ہو جائے اور کچھ پیش نہ جائے۔ یہ ان کی آنکھوں کے سامنے بڑھتی رہے، نشو و نما پاتی رہے اور مضبوط اور تناور درختوں میں تبدیل ہونا شروع ہو جائے۔ پس یہ ہمارا مقدر ہے اس لئے احتیاط کے سارے تقاضے میں ایک طرف پھینک دیتا ہوں جس کو خدا نے ضمانت دے دی ہو کہ تم میری نعمتوں کی تشہیر کرو اور خوب بیان کرو اور دشمن سے کوئی ڈرنے کی ضرورت نہیں اس لئے وہ جو چاہیں کریں۔ ایک صوبے کا کیا ساری دنیا کے وزراء اور وزرائے اعظم اور وزرائے اعلیٰ جو بھی نام ان کے ہوں وہ مل کر بھی خدا کے نور کو نہیں بجھا سکتے ۔ یہ تو وہ چراغ ہے جو روشن رہنے کیلئے بنایا گیا ہے اوہ مل نور سکتے۔ وہ رہنے بنایا اور روشن کرنے کیلئے بنایا گیا ہے۔ اس نے تمام دنیا میں روشنی پھیلانی ہے اندھیروں کو خدا تعالیٰ کے فضل سے منور کر دینا ہے تو اس لئے جماعت کو اس معاملے میں گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ خدا کے جو فضل ہیں انشاء اللہ بیان کئے جائیں گے۔ اور ان فضلوں میں سے ایک یہ ہے کہ USSR کی ریاستوں میں بڑی تیزی سے جماعت کی طرف مدد کا ہاتھ پھیلانے کی طرف توجہ ہو رہی ہے اور وہ اخلاقی قدروں میں بھی ہم سے ۔ مدد مانگ رہے ہیں کہ ہمارے ملک میں آکر ہماری اخلاقی قدروں کی تعمیر میں ہماری مدد کرو اور علمی میدانوں میں بھی وہ ہم سے مدد مانگ رہے ہیں اور انہیں ہم پر اعتماد ہے۔ اب تک خدا کے فضل سے