خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 681
خطبات طاہر جلدا 681 خطبه جمعه ۲۵ ستمبر ۱۹۹۲ء نصیب نہیں ہوتا اور یہی بے سکونی ہے جس پر خدا کے پیار کی نظر پڑتی ہے وہی بے سکونی تھی جو رسول اکرم ﷺ کی زندگی کا جز بن گئی اور اُس بے چینی اور بے قراری کو خدا نے محبت و پیار سے دیکھا۔ رو کا بھی مگر ان معنوں میں نہیں روکا کہ رک ہی جاؤ ۔ ایک پیار کا اظہار تھا، ایک محبت کا اظہار تھا بتانے کے لئے کہ میری نظر ہے تم پر تم کیا کر رہا ہے۔ پس ان معنوں میں آپ داعی الی اللہ بنیں تو ناممکن ہے کہ یورپ کی زمین سنگلاخ رہے۔ کوئی دنیا کی زمین سنگلاخ نہیں ہے اگر ہے بھی تو اتنی زیادہ محبت کا معیار اونچا ہو جانا چاہئے جو سنگلاخ زمینوں کو بھی تبدیل کر دیا کرتا ہے ہالینڈ میں تبدیل کرنے والوں کے لئے بڑی نصیحت ہے۔ اس میں یہ وہ قوم ہے جس نے ساری دنیا پر یہ ثابت کیا ہے کہ ہم اپنی ذات پر انحصار کرتے تھے! ہ اپنی محنت کے ، بنا ساتھ ، اپنی اُس تقدیر کو بہتر بنا سکتے ہیں جو تقدیر خدا تعالیٰ نے ہمیں عطا کی ہے۔ جس میں بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ انسان نئی تقدیر تو نہیں بنا تا لیکن تقدیر کے اندر خدا نے وہ گنجائشیں رکھی ہوتی ہیں کہ انسان محنت کرے تو اُس تقدیر کو بہتر کرتا چلا جائے۔ پس جس ملک میں آپ رہ رہے ہیں اس کا اکثر حصہ سطح سمندر سے نیچے ہے۔ بڑی عظیم قوم ہے جس نے اتنی لمبی محنت کی ہے اور مسلسل سمندر سے زمین کھینچتی رہی ہے چھینتی رہی ہے اور اپنی زمین کو بڑھاتی چلی جا رہی ہے۔ اس کے لئے بہت لمبی محنت درکار ہے، عقل کی بھی ضرورت ہے لیکن جو پختہ مزاجی چاہئے ۔ یہ ہے عظمت کر دار تو جس قوم کا نصیب ہو اللہ کے فضل کے ساتھ وہ قوم نا کام نہیں ہو سکتی۔ بل مارک نے ایک دفعہ آئر لینڈ پر پھبتی کستے ہوئے اور اُن کے حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک دفعہ کہا تھا کہ انگریزوں کو میں یہ مشورہ دیتا ہوں کہ ہالینڈ کے رہنے والوں کو آئر لینڈ میں آباد کر لیں اور آئر لینڈ والوں کو ہالینڈ بھیج دیں۔ ہوگا کیا اُس نے کہا۔ ہوگا یہ کہ اگر ہالینڈ کے باشندے آئر لینڈ جا کر بس جائیں تو آئر لینڈ دنیا کا عظیم ترین ملک بن جائے گا اور آئرلینڈ کے باشندے اگر ہالینڈ میں آ کر بسیں تو Dais بنا ہی نہیں سکیں گے، غرق ہو جائیں گے سمندر میں اور انگریزوں کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔ یہ ہے تو ایک طعن آمیزی ایک قوم پر طعن آمیزی سہی لیکن ایک سیاستدان نے معلوم ہوتا ہے کہ گہری نظر سے دیکھا ہے کردار کو ۔ آئر لینڈ کے متعلق ہم اس سے اتفاق