خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 62 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 62

خطبات طاہر جلدا 62 خطبه جمعه ۲۴ جنوری ۱۹۹۲ء گھٹی ہر قسم کی صحت جسمانی کے سامان مہیا کئے جائیں ۔ بہترین Gymnasium بنائے جائیں ۔ لجنہ کے لئے ایک کھلی زمین خرید کریا اگر کوئی موجودہ زمین اس کام کے لئے مل سکتی ہو تو اسے احاطہ کر کے ن کام کے لئے مل ہو تو لڑکیوں اور عورتوں اور طالبات وغیرہ کے لئے وقف کر دیا جائے ۔ وہاں ہر قسم کی جدید کھیلوں کے ۔ انتظام ہونے چاہئیں اور باہر سے کوئی احمدی بچیاں کسی فن میں مہارت رکھتی ہیں ۔ ہندوستان میں ۔ بھی کئی کھیلوں کی اچھی اچھی ماہر بچیاں ہیں تو وہ وہاں اپنا وقت لگائیں ۔ وہاں جا کر ان کو تعلیم و تربیت دیں۔ تو ان کے لئے کچھ تو ایسا سامان ہونا چاہئے جس سے وہ دل کی فرحت اور سکینت محسوس کریں ۔ محض ا ہیں ۔ محض ایک سنجیدہ ماحول میں جو روحانی سہی لیکن اتنا تنگ ماحول ہے کہ اس میں زندگی گھٹی محسوس ہوتی ہے۔ ایسے ماحول میں ان بچیوں کو اور لڑکوں اور بڑوں کو زندگی بسر کرنے پر مجبور رکھنا یہ ظلم ہے اس لئے عالمی جماعت کا یہ فرض ہے کہ ان کی اس قسم کی علمی اور صحت جسمانی کی ضرورتیں ضرور پوری کریں اور اس شان سے پوری کریں کہ علاقے میں اسکی کوئی مثال نہ ہو۔ پس اس بارہ میں میں ہدایات دے آیا ہوں کہ اب تفصیلی منصوبے بنانا تمہارا کام ہے۔ بناؤ اور جو بھی بناؤ گے انشاء اللہ عالمی جماعت فراخدلی کے ساتھ ان پر عمل درآمد کرنے میں تمہاری مدد کرے گی ۔ اور میری خواہش ہے کہ آئندہ جلسہ سے پہلے پہلے عورتوں اور مردوں کے لئے یہ سپورٹس کمپلیکس مکمل ہو چکے ہوں یا مکمل نہ سہی تو نظر آنے شروع ہوں اور ان کا فیض دکھائی دینے لگے ۔ ہمارے احمدی بچوں کے چہروں پر صحت دکھائی دے اس لئے یہ بھی وہ ایک ضروری منصوبہ ہے جو شروع کیا جا چکا ہے لیکن یہ قادیان تک محدود نہیں رکھنا۔ علمی اور صحت کے یہ دونوں منصوبے ہندوستان کی باقی جماعتوں میں ممتد ہوں گے کیونکہ ان کی بھی محصور کی سی ایک کیفیت ہے ۔ بہت سے ایسے علاقے ہیں جہاں مسلمان بعض راہنماؤں کی غلطیوں کی وجہ سے اپنے بنیادی حقوق سے محروم رکھے جارہے ہیں۔ ان میں جماعت احمد یہ بھی ان تکلیفوں میں حصہ دار بنی ہوئی ہے اگر چہ غلط پالیسیوں کے ساتھ جماعت احمد یہ کا کوئی تعلق نہیں لیکن دوسری مصیبت یہ ہے کہ پاکستان کی طرح کے ملاں وہاں بھی جماعت کے خلاف نفرت کی تحریکات چلاتے اور بھڑکاتے ہیں اور کوئی ہوش نہیں کر رہے کہ باہر کی دنیا میں کیا گندا اثر پیدا کر رہے ہیں اس لئے احمدیوں کے لئے دوہری مشکلات ہیں اور وہ ان مخالفتوں میں محصور ہو چکے ہیں ۔ چنانچہ بعض جماعتوں کے ساتھ جب تفصیلی انٹرویو ہوئے تو پتا لگا