خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 664 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 664

خطبات طاہر جلداا 664 خطبه جمعه ۱۸ ستمبر ۱۹۹۲ء ہوتے ہیں۔ عورتوں کے لئے پردے کا مضمون ہے ، مردوں کے لئے بغیر برقعے کے اپنی حفاظت کا مضمون ہے ، ان سب چیزوں میں حتی المقدور افراط اور تفریط سے بچنا بڑا ضروری ہے ورنہ آپ ان قوموں کی تربیت نہیں کر سکیں گے۔ سوئٹزر لینڈ میں میں نے دیکھا ہے کہ یا تو مذہب بالکل ہی اٹھ چکا ہے، کوئی نشان بھی باقی نہیں رہا یا وہ مذہبی ہیں جو بہت ہی متعصب ہیں اور افراط کے دوسرے کنارے پہ پہنچے ہوئے ہیں اس لئے ایسی قوم کا مزاج درست کرنا جس میں مذہب بھی ہوا اور ساتھ کریک بھی ہو تھوڑا سا ۔ دماغی حالت ہی ٹیڑھی ہو اور وہ ہمارے مولویوں کی طرح ایک مولویانہ مزاج رکھتا ہو اور دوسری طرف بالکل مادر پدر آزاد خدا کے قائل نہیں ، مذہب کی ضرورت نہیں سمجھتے ۔ ان دو انتہاؤں کے درمیان آپ نے زندگی بسر کرنی ہے اور دونوں کے مزاج درست کرنے ہیں اس لئے آپ کو اپنی ساری زندگی کا مزاج ٹھیک کرنا ہوگا۔ قرآن کریم نے جب یہ فرمایا تو اس میں یہ مضمون بھی بیان فرما دیا کہ وہ لوگ جو چھوٹی چھوٹی باتوں پر اعتراض کرتے ہیں اور روح کو بھول جاتے ہیں وہ اُمَّةً وَسَطًا کہلانے کے مستحق نہیں ہیں۔ چنانچہ یہ آیت جب پوری پڑھیں تو آگے اس مضمون کی کھل کے سمجھ آجاتی ہے فرمایا وَهَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِي كُنْتَ عَلَيْهَا إِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ يَتَّبِعُ الرَّسُولَ مِمَّنْ يَنْقَلِبُ عَلَى عَقِبَيْهِ بظاہر ایسی بات کر دی جس کا پہلے مضمون سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اور مفسرین بھی اس معاملے میں اٹک جاتے ہیں کہ بات ہو رہی ہے ہم نے تمہیں اُمَّةً وَسَطًا بنایا۔ بیچ کی امت بنایا اور اس لئے بنایا تا کہ بنی نوع انسان کی نگرانی فرماؤ ۔ اور اس لئے بنایا تا کہ تمہارا مزاج رسول کے مزاج کے مطابق ہو جائے اور محمد رسول اللہ ﷺ کی نگرانی میں تم أُمَّةً وَسَطًا بنوتا کہ ساری دنیا کی نگرانی کر سکو اس کے معاً بعد فرمایا وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِي كُنْتَ عَلَيْهَا إِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ يَتَّبِعُ الرَّسُولَ اس غرض سے بنایا تھا کہ تا کہ ہم جان لیں کہ کون ہے جو رسول کی اتباع کرتا ہے اور کون ہے جو اس سے پیٹھ پھیر کر ایڑھیوں کے بل پھر جاتا ہے ، اس ہے۔ مضمون کا وسطا والے مضمون سے کیا تعلق ہے۔ صلى الله عروسة ۔ یہ جو دوسرا مضمون بیان ہوا ہے اس کا پس منظر یہ ہے کہ حضرت اقدس محمد مصطفی پہلے بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھا کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ بیت المقدس کا