خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 650
خطبات طاہر جلداا 650 خطبه جمعه ۱۱ ستمبر ۱۹۹۲ء وہ ایک ایسی شمع روشن کریں گے عبادت کی جس کی روشنی دور دور تک پھیلے ۔ وہ اپنے گھر ہی کو روشن نہیں کریں گے بلکہ روشنی کا مینار بن جائیں گے تا کہ دور دور تک اُن کی روشنی کے فیض سے جہاز چٹانوں سے ٹکرانے کے بجائے ہدایت کی راہ پا جائیں گے۔ پس اس قوم میں ایسے روشنی کے مینار بننے کی ضرورت ہے اور عبادت گزار ہی ہے جو ایسا روشنی کا مینار ثابت ہو سکتا ہے۔ ہے ایسا ہوسکتا اور بہت سے امور جو بیان کئے گئے تھے اُن کے لئے تو وقت نہیں اب رہا لیکن سب سے اہم بات میں نے آپ کے سامنے رکھ دی ہے۔ ایک امر یہ بتایا گیا ہے کہ بعض لوگ سیاسی پناہ کے مقدمات میں جھوٹ سے کام لیتے ہیں اور لیتے چلے جاتے ہیں۔ یہ بڑے ظلم کی بات ہے۔ میں نے پہلے بھی بتایا تھا کہ یہ شرک ہے۔ دنیا کی منفعت کی خاطر آپ جب جھوٹ کا سہارا لیتے ہیں تو ایک خدا کو چھوڑ کر دوسرے خدا کی عبادت شروع کر دیتے ہیں اور جھوٹ کے نتیجے میں بلکہ برکتیں بھی نہیں ملتیں۔ میں آپ کو نصیحت کرتا ہوں کہ اگر غلط بیان دیئے بھی گئے ہیں تو اس بات سے قطع نظر کہ آپ کے سچ کی کیا سزا ہو گی آپ کو سچ بولنا چاہئے اور جو حقیقت حال ہے وہ بتانی چاہئے یہ بتانے کی کیا ضرورت ہے کہ ہمیں مار پڑی اور ہمیں یہ ہوا جبکہ نہ مار پڑی اور نہ کچھ اور ہوا۔ وہ بتانا چاہیئے کہ سارے احمدی کا دل وہاں دکھا ہوا ہے۔ ہماری ہر چیز پر پابندی ہے ہر روز اخباروں میں منہ کالے کئے ہوئے تے ہیں اُنہوں نے جھوٹ بول بول کے اور کوئی دن ایسا نہیں گزرتا کہ جبکہ طعن و تشنیع کی ذریعہ، گالیاں دے کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف بکواس کر کے ہمارے دل چھلنی نہیں کئے جاتے اور ہر وقت فسادی کے جھوٹ کی تلوار ہمارے اوپر لٹکی ہوئی ہے کوئی امن نہیں ہے۔ یہ بات کہنے کے بجائے جو سو فیصدی سچی ہے جب آپ ایک فرضی مقدمہ بناتے ہیں ، فرضی کہانی گھڑتے ہیں کہ ہماری ذات پر یہ ہوا تو اپنے اوپر بھی ظلم کرتے ہیں اور احمدیت پر بھی بڑا ظلم کرتے ہیں اور ایک غلط بالکل تاثر پیدا کرتے ہیں اس لئے جیسا کہ میں نے بارہا جھوٹ سے پر ہیز کی ہدایت کی ہے اور تبتل الی اللہ کے مضمون کا آغاز ہی جھوٹ سے بچنے سے کیا تھا۔ جھوٹ سے بچنے کی نصیحت سے کیا تھا اس کی طرف میں دوبارہ متوجہ کرتا ہوں کہ ہر قیمت پر جھوٹ سے پناہ مانگیں ۔ ہوتے بعض جرمنی میں آئے احمدیوں نے الحمد للہ بہت ہی نیک نمونہ دکھایا اور مجھے لکھا کہ یہ ہمارا کیس جھوٹا تھا۔ یعنی عمومی تکلیف تو تھی لیکن جو بات میں نے اپنے کیس میں پیش کی تھی وہ غلط تھی۔ کی