خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 645 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 645

خطبات طاہر جلداا 645 خطبه جمعه ۱۱ ستمبر ۱۹۹۲ء پس آپ کو حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کا قرب پیارا ہے تو اس پیار کی تمنا تو کر کے دکھائیں۔ تب آپ کی دعائیں بھی مقبول ہوں گی اور دوسروں کی آپ کے حق میں مقبول ہوں گی ورنہ جس نے دنیا میں فاصلے قائم رکھے اور پرواہ نہیں کی قیامت کے دن بھی یہ فاصلے پاٹے نہیں جاسکیں گے اس لئے نماز کو کم از کم اس کوشش کے ساتھ ادا کریں کہ نماز میں کچھ لمحے ساری نہ سہی ، کچھ لمح لقاء کے نصیب ہو جا ئیں ۔ کچھ ایسے لمحے ہوں کہ نماز ایک ملاقات بن جائے ۔ لقاء باری تعالیٰ جو کہتے ہیں دراصل ملاقات ہے۔ یہ جو کہتے ہیں لقاء نصیب ہو جائے حالانکہ وہ آدمی جو لقاء کی دعائیں کرتا ہے وہ نماز بھی پڑھ رہا ہوتا ہے۔ تو لقاء سے مراد وہ لقاء ہے جو زندہ ملاقات کی مشیت رکھتی ہے۔ جب آپ کسی سے ملنے جاتے ہیں تو ہوش وحواس ، پوری توجہ کے ساتھ مل رہے ہوتے ہیں اور اُس ملاقات کے نتیجے میں جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے لذتیں پیدا ہوتی ہیں جو زندگی کی یادوں کا سرمایہ بن جاتی ہیں ۔ نماز میں بھی ویسی ہی لقاء نصیب ہو تو پھر وہ نماز زندہ ہوتی ہے اور جس کی نماز میں یہ جھلکیاں ملنی شروع ہو جائیں ۔ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ وہ نمازوں پر قائم ہو جایا کرتا ہے۔ پس بہت سے ایسے احمدی نوجوان ، بہت سے اگر نہیں تو اتنی تعداد ضرور ہے کہ جو ہمارے لئے شدید تکلیف کا موجب ہے۔ ایسی بھی مثالیں موجود ہیں جو نمازوں سے غافل ہیں یعنی نماز کا غافل ہونے سے مراد نماز کا پڑھتے ہوئے غافل ہونا بھی ہو سکتا ہے لیکن یہ بھی ہو سکتا ہے کہ نماز پڑھتے ہی نہیں ۔ اتنی غفلت کی حالت ہے کہ پرواہ ہی کوئی نہیں رہی۔ ایسے لوگوں کے متعلق بعض دفعہ ان کی بیویاں مجھے لکھتی ہیں، بعض دفعہ مائیں لکھتی ہیں ، بعض دفعہ بہنیں بھی لکھتی ہیں، بعض دفعہ بچے بھی لکھتے ہیں کہ دعا کریں کہ ہمارے ابو کو نماز کی عادت نہیں ہے۔ بعض بیویاں لکھتی ہیں کہ ویسے تو بہت اچھے ہیں مگر میں ہر وقت کڑھتی رہتی ہوں کہ میرے میاں کو نماز سے کوئی شغف نہیں ۔ سمجھاتی ہوں تو جھڑک دیتے ہیں چھوڑ دو ان باتوں کو میں جانتا ہوں ، میری مرضی ہے، میرا خدا سے تعلق ہے، مطلب ہے میرا خدا سے کوئی تعلق نہیں لیکن کہتے یہی ہیں کہ میرا خدا سے تعلق ہے اور میں جانتا ہوں ۔ کیسی ظلم کی حالت ہے آپ اپنی اس زندگی کو ضائع کر رہے ہیں جو چھوٹی سی زندگی ہے اور ایک دفعہ ختم ہوئی تو پھر واپس نہیں آئی۔ کیا پتا ہے کہ کس وقت کون گزر جائے اور جو بے نماز دنیا سے گزرے گا وہ اندھی حالت میں