خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 643
خطبات طاہر جلداا 643 خطبه جمعه ۱۱ ستمبر ۱۹۹۲ء کر دیئے اور نظر کی کیفیت میں بھی مزا پیدا کیا چنانچہ بعض قو میں ایسی ہیں کہ جن کو کھانے کا لطف ہی نہیں آتا جب تک خوب سجا نہ ہو۔ ان کے ہاں نظر کی لذت زبان کی لذت سے بھی زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ چنانچہ جاپان میں جن کو جانے کا موقع ملا ہو یا جنہوں نے جاپان کی کوئی فلم دیکھی ہو۔ وہ یہ محسوس کریں گے کہ ساری دنیا کی قوموں میں سب سے زیادہ سجاوٹ کے ساتھ جاپانی کھانا پیش کرتے ہیں اور ایسے خوبصورت کھانے سجا کر بعض دفعہ طاقوں میں لگائے ہوتے ہیں یا شیشے کی الماریوں میں کھانے کی دکانوں میں سجائے ہوتے ہیں کہ آدمی سمجھتا ہے بہت ہی مزیدار چیز ہوگی۔ مگر ہمارا تو چونکہ یہ ذوق مختلف ہے جب کھاتے ہیں تو دو لقمے بھی نہیں کھائے جاتے ہیں لیکن اُن کے ہاں نظر کو اہمیت ہے۔ بعض قوموں میں خوشبو کو اہمیت ہے، بعض قوموں میں زبان کی تیزی کو اہمیت ہے، زبان کی تیزی پیدا ہو، جیسے کہ مرچ مصالحہ کھانے والے ہیں زبان کی تیزی کا مزا چکھتے ہیں بعضوں کو اصل چیز کی خوشبو میں مزا ملتا ہے، کوئی چینی یا کوئی اور چیز زائد کر دی جائے تو اُن کا مزا کھویا جاتا ہے۔ لیکن یہ ساری چیزیں سوائے انسان کے کسی اور کو نصیب نہیں ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے انسان کے لئے کیسے کیسے سامان فرمائے ہیں۔ نماز میں مزے سے پہلے روزمرہ کی زندگی میں تو خدا تعالیٰ سے تعلق قائم کر لیں اور اتنے بے شمار مواقع ہیں صبح سے آنکھ کھلنے کے وقت سے لے کر رات سوتے وقت تک اگر انسان خدا کا شعور زندہ رکھے تو سینکڑوں، ہزاروں مواقع اُس کو لقائے باری تعالیٰ کے میسر آ سکتے ہیں۔ توجہ ہو تو ضرور تو کچھ نہ کچھ جھلکیاں خدا کے پیار کی ہر زندگی کے شعبے میں دکھائی دیں گے۔ ایسے شخص کی نماز پھر زندہ ہونے کی اہلیت رکھتی ہے جب وہ نماز میں خدا کو رَبِّ الْعَلَمِينَ (الفاتحہ (۲) کہتا ہے تو اپنے روزمرہ کے تجارب میں سے کچھ باتیں یاد آ جاتی ہیں جبکہ اس نے خدا کی ربوبیت سے لطف اٹھایا تھا ، اُس نے خدا کی ربوبیت کے نظارے اپنے گھر میں دیکھے، اپنے بچوں میں دیکھے، اپنے ماحول میں دیکھے، اُس ملک میں دیکھے جس ملک میں وہ بس گیا ہے پھر اُس کی رحمانیت کے نظارے، اُس کی رحیمیت کے نظارے، اُس کے مالک ہونے کے نظارے، یہ سارے روزمرہ کی زندگی میں ایسے تجارب ہیں کہ ایک دن بھی اُن سے خالی نہیں اور جو شخص باشعور ہو جائے اُس کا کوئی لمحہ ان تجربوں سے خالی نہیں ہو سکتا۔ باشعور ہونے میں اور اس سفر کے ابتدائی قدم اٹھانے میں بڑے فاصلے ہیں ، لا متناہی فاصلے ہیں۔