خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 640
خطبات طاہر جلداا 640 خطبه جمعه ۱۱ ستمبر ۱۹۹۲ء قبضہ جما لیتا ہے اور اُس کے نتیجے میں انسان وہ باتیں بھی نہیں کہہ سکتا جو اُس نے کہنی ہوتی ہیں۔ الله اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا تصور اگر صحیح ہو تو انسان کے دل و دماغ پر اتنی قوت کے ساتھ قبضہ جمائے گا کہ اس کی کوئی اور مثال دنیا میں دکھائی نہیں دے گی اور یہ ایک ایسی چیز ہے جو اگر عارف باللہ کے حالات پر غور کیا جائے تو عارف باللہ کے آئینے سے دکھائی دے سکتی ہے۔ روزمرہ کی زندگی میں صلى الله عام انسان اس حقیقت کا تصور بھی نہیں کر سکتا ۔ حضرت ان حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے متعلق یہ بتایا جاتا ہے احادیث میں لکھا ہے کہ جب آپ نماز نہیں بھی پڑھ رہے ہوتے تھے تو دل نماز میں اٹکا ہوتا تھا۔ یہ وہی کیفیت ہے جو میں نے بیان کی ہے کہ خدا کے حضور با قاعدہ حاضری دینے کا تصور اتنا پیارا لگتا تھا اور اس سوچ میں آپ گم رہتے تھے کہ کب میں جاؤں گا اور کیا کیا باتیں اُس با قاعدہ نماز کی حالت میں کروں گا اور پانچ وقت نہیں پانچ وقت سے زیادہ مرتبہ آپ ﷺے خدا کے حضور با قاعدہ حاضر ہوتے تھے لیکن تعلق کا یہ عالم تھا اور خدا کی عظمت کا وہ ایک عظیم اثر آپ کے دل پر ایسا مسلط تھا، قائم ہو چکا تھا کہ ہر روز کی بار بار کی ملاقات بھی اُس اثر میں کمی پیدا نہیں ہونے دیتی تھی ، اُس جذبے کو ہلکا نہیں کر سکتی تھی بلکہ دن بہ دن جہاں تک آپ کی عبادات کا حال درج ہے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ تعلق بڑھتا ہی گیا اور دل نمازوں میں ہی اٹکا رہا۔ پس یہ ایک ایسی چیز نہیں ہے جو صرف بیان کرنے سے آ جائے یہ دل کے اندرونی تجربے کا نام ہے اور دل کا اندرونی تجربہ حاصل کرنے کے لئے محنت کرنی پڑے گی اور صحیح طریق پر صحیح رخ پر قدم اٹھانے پڑیں گے۔ اسی لئے میں کوشش کرتا ہوں کہ جیسے بچے کو ہاتھ پکڑ کر چلایا جاتا ہے، جماعت کو بار بار نماز کے متعلق ہاتھ پکڑ پکڑ کر چند قدم چلا کر دکھاؤں کہ اس طرف نماز کا رُخ ہے، ایسی نماز جہاں نصیب ہوتی ہے اور اس طرح ادا کی جاتی ہے۔ پس وہ لوگ جو نمازوں میں سست ہیں ، بہت بڑے محروم ہیں۔ اُنہوں نے اپنی زندگیاں ضائع کر دیں اور آئندہ کے لئے بھی اُن کو کچھ حاصل نہیں ہو سکتا۔ خصوصیت کے ساتھ جماعت جرمنی کو اس امر کی طرف توجہ کرنی چاہئے اور تمام ذیلی تنظیموں کو بھی اس بات پر مستعد ہو جانا چاہئے کہ اُن کا کوئی ممبر بھی بے نمازی نہ رہے اور جہاں تک افراد کا تعلق ہے جیسا کہ میں نے آپ کے سامنے یہ بات رکھی ہے۔ نماز کے وقت آپ اگر صرف یہ کوشش کر لیں کہ نماز میں کوئی ایک حالت آپ کو ایسی نصیب ہو جائے کہ خدا تعالیٰ سے بات کرتے ہوئے