خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 636 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 636

خطبات طاہر جلداا 636 خطبه جمعه اار ستمبر ۱۹۹۲ء جو باتیں خصوصیت کے ساتھ ان کی توجہ کی مستحق ہوں۔ جرمنی کے نقطہ نگاہ سے میں نے چند امور نوٹس کی صورت میں لکھے ہیں۔ اس سلسلے میں بعض ایسے دوستوں نے مجھے توجہ دلائی جو پاکستان سے جرمنی کے دورے پر تشریف لاتے رہے ہیں اور بلا کم و کاست اور بے لاگ اُنہوں نے جو کچھ محسوس کیا اُس سلسلے میں انہوں نے مجھے بھی متوجہ کیا۔ سب سے اہم بات جس کی طرف توجہ دلائی گئی ہے وہ نمازوں میں سستی ہے۔ مجھے بتایا گیا کہ بہت سے نوجوان ایسے ہیں جنہوں نے ابھی تک نمازوں کی طرف کما حقہ توجہ شروع نہیں کی حالانکہ عبادات کے متعلق میں نے مسلسل لمبے عرصے تک خطبات دیئے اور ہر پہلو سے جماعت کو سمجھانے کی کوشش کی کہ جب تک جماعت عبادت پر قائم نہیں ہو جاتی نہ احمدیت کسی کو فائدہ پہنچا سکتی ہے ، نہ اس کے دنیا میں غلبہ پانے کے کوئی معنی ہیں کیونکہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذريت: ۵۷) کہ میں نے عبادت کی غرض کے سوا کسی اور غرض سے انسان کو پیدا نہیں کیا۔ انسان کو اور جن کو دونوں کو پیدا کیا ہے تو عبادت کی غرض سے کیا ہے۔ پس اگر انسان کی پیدائش کی غرض ہی پوری نہ ہو تو باقی ساری باتیں تو ثانوی حیثیت رکھتی ہی ہوتو ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا اسی جماعت سے تعلق ہے اور اسی سے رہے گا جو اس کی عبادت کا حق ادا کرتی ہے اور جب تک وہ یہ حق ادا کرنے کی کوشش کرتی رہے گی اللہ تعالیٰ کی رحمتیں ، اس کے فضل ، اُس کی نصرتیں ایسی جماعت کی شامل حال رہیں گے۔ اگر چہ یہ درست ہے کہ آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمد یہ قیام عبادت کے لحاظ سے تمام دنیا کی دوسری مذہبی جماعتوں میں ایک نمایاں حیثیت رکھتی ہے۔ صرف عبادت کے ظاہر ہی کو نہیں پکڑتی بلکہ اس کی روح سے بھی فائدے کی کوشش کرتی ہے۔ جماعت کی بھاری اکثریت ایسی ہے جس نے رفتہ رفتہ عبادت کے مضمون کو سمجھ لیا ہے اور مسلسل کوشش کر رہی ہے کہ محض ظاہری طور پر کھڑے ہونا اور رکوع کرنا اور کھڑے ہونا اور سجدے میں گرنا عبادت نہ رہے بلکہ روح بھی ساتھ خدا کے حضور قیام پکڑے، روح بھی رکوع کرنے والے کے ساتھ رکوع میں جائے اور پھر کھڑے ہونے والے کے ساتھ خدا کے حضور ایستادہ کھڑی ہو جائے اور پھر جھکنے والے کے ساتھ خدا کے حضور سجدہ ریز ہو جائے ۔ یہ وہ عبادت ہے یعنی جسم اور روح کی اکٹھی عبادت جو حقیقت میں انسان کی زندگی میں ایک عظیم انقلاب پیدا کر دیا کرتی ہے۔ وہ لوگ جو محض