خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 630 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 630

خطبات طاہر جلد اا 630 خطبه جمعه ۴ ستمبر ۱۹۹۲ء صلى الله ہے دنیا تو سچے کا حسن دیکھ کر لازماً اُس کے عشق میں مبتلا ہو جائے گی ۔اس لئے بیچ کے خلاف فریب کاری کی ضرورت ہے اور جھوٹ کے خلاف فریب کاری کی ضرورت نہیں کیونکہ جھوٹ ہوتا ہی گندا ہے اور مکروہ ہے اس لئے اور نقطہ نگاہ چھوڑ دیجئے عقل کے عام سیدھے سادھے نقطہ نگاہ سے بھی سچ کو فریب کاری کی کاری کی ضرورت نہیں ہے اور جھوٹ محتاج ہے۔ چنانچہ حضرت اقدس محمد مصطفے ﷺ کے متعلق ہمیشہ ایسی جھوٹی باتیں بیان کی جاتی تھیں جن کے نتیجہ میں لوگ آپ سے متنفر ہوں ۔ اگر آپ کے دشمن آپ کی سیرت کا سچا حال بیان کرتے تو کس نے متنفر ہونا تھا۔ لوگ تو دوڑ دوڑ کر والہا نہ آکر اپنی جان مال عزتیں آپ کے قدموں پر نچھاور کرتے اس لئے ہمیشہ باطل کو مکر وفریب کی ضرورت ہوتی ہے۔ سچ کو ضرورت ہی کوئی نہیں ہوتی ۔ صلى الله الله عروسة ۔ آنحضرت ﷺ من ت سے متعلق اس طرح جھوٹ اور فریب سے کام لیا جاتا تھا کہ جس قسم کا کوئی شخص ہو اس کے مزاج کے مطابق اُس کے سامنے جھوٹ گھڑا جاتا تھا۔ قرآن کریم نے اس کی مختلف قسمیں بیان فرمائیں ہیں ۔ ایک بڑھیا عورت کے متعلق روایت آتی ہے کہ وہ ایک دفعہ با ہر کسی قبیلہ سے مکہ آئی اور اس کو یہ بتایا گیا کہ وہ شخص بڑا جادوگر ہے اس سے بچ کر رہنا اور عام طور پر بڑی بوڑھی عورتیں جو ہیں وہ جادو سے بڑی ڈرتی ہیں تو وہ بڑی سخت خوفزدہ تھی کہ میں اس بستی میں جا رہی ہوں جہاں اتنا خطرناک جادوگر رہتا ہے۔ بوجھ اُٹھایا ہوا۔ بوجھ سے دوہری ہوئی ہوئی ، پہلے ہی بوڑھی اوپر سے بوجھ زیادہ جگہ جگہ پوچھتی پھرتی کہ جادوگر کون ہے ، کہاں ہے کہیں میں اس رستے نہ گزروں کسی نے اس کی پرواہ نہ کی۔ بات کرتی تھی اور سننے والا آگے گزر جاتا یہاں تک کہ ایک ایسا شخص سامنے آیا جس نے بڑی توجہ سے ہمدردی سے اس کی بات کو سنا اور اس نے کہا ! بی بی میں تمہیں بتاؤں گا کہ وہ کون ہے تم نے بہت بوجھ اُٹھایا ہوا ہے۔ آؤ میں تمہیں تمہاری منزل تک پہنچا دیتا ہوں۔ بوجھ مجھے اُٹھا دو اس کا سامان اٹھایا۔ اُسے منزل تک پہنچایا ۔ جب سامان وہاں رکھا تو یہ کہا کہ وہ جادوگر میں ہوں اور اس لئے پہلے اس کو نہیں بتایا کہ کہیں وہ گھبرا کر اس فائدے سے محروم نہ ہو جائے جو آپ اس کو پہنچانا چاہتے تھے۔ اس بڑھیا نے دیکھیں کیسی عقل کا جواب دیا۔ اس نے کہا اے جادوگر اگر تو وہی جادوگر ہے تو سن کہ تیرا جادو چل گیا ہے اور میں تیرا کلمہ پڑھتی ہوں تو سچا ہے۔ تو سچائی کا جادو تو اس طرح چلتا ہے جسے فریب کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ فریب ہے جو سچائی کے مقابل پر بار بار مات کھاتا