خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 598
خطبات طاہر جلداا 598 خطبه جمعه ۲۸ را گست ۱۹۹۲ء ساس اگر بہو پر یہ الزام لگانا چاہے تو کہتے ہیں اٹواٹی کھٹوائی لے کر پڑ گئی ۔ سارا دن لڑائی کیا ں اور جب بہو کا خاوند اپنا بیٹا گھر آیا تو چادر لے کر بستر کے اوپر لیٹ گئی کہ میں آج اس کے ظلموں سے مر چلی ہوں۔ مکر خواہ بہو کی طرف سے ہو یا ساس کی طرف سے مکر بد ہی ہے اور ناجائز ظلم کسی پر کروانے کی خاطر کیا جاتا ہے لیکن یہ تو معمولی سی مثال ہے میں نے تفصیل سے جائزہ لے کر دیکھا ہے ابھی تک احمدیوں میں بھی مکر کا استعمال جاری ہے اور اس کے نتیجہ میں ہماری سوسائٹی میں ابھی تک بہت دکھ موجود ہیں۔ خصوصاً مالی لین دین میں ، تجارتوں میں اور رشتے داریوں کے تعلقات میں ابھی تک ایک حصہ جماعت احمد یہ میں ایسا ہے جو مکر سے کام لیتا ہے اور اُن کا مکر تب باہر نکلتا ہے جب تعلقات زیادہ بگڑ جاتے ہیں ، جب مقدمات کی صورت اختیار کر جاتے ہیں، جب قضاء میں شکائتیں آتی ہیں یا براہ راست مجھے شکائتیں پہنچتی ہیں تو پتا چلتا ہے کہ یہاں ایک جھوٹے بت کی عبادت ہو رہی تھی اور اس بت نے دھوکہ دیا جیسا کہ قرآن کریم نے فرمایا تھا کہ خدا کے سوا کوئی حقیقی خدا نہیں ہے۔ جن بتوں کو تم نے گھڑ رکھا ہے ان کی عبادتیں کرتے ہو تو کرو لیکن تم ان سے ضرور نقصان اُٹھاؤ گے کیونکہ جھوٹ سے اور فریب سے انسان کو بالحقیقت آخر کار نقصان پہنچتا ہے۔ آنحضرت ﷺ کی ان باتوں پر بہت باریک نظر تھی کہ سوسائٹی میں کسی قسم کا بھی فریب نہ صلى الله آئے چنانچہ ایک موقعہ پر حضرت اقدس محمد بازار سے گزر رہے تھے۔ حضرت ابو ہریرہ کی روایت ہے کہتے ہیں : ان رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على صبرة طعام فادخل يده فيها فنا لت اصابعه بللا فقال ما هذا يا صاحب الطعام قال اصابته السماء يا رسول الله قال افلا جعلته فوق الطعام حَتَّى كى يراه الناس من غش فليس مِنَّا“ (مسلم کتاب الایمان حدیث نمبر : ۱۴۷) صلى الله حضرت ابو ہریرہ کی روایت ہے کہ آنحضرت بازار میں سے گزر رہے تھے کہ گندم کی یا کسی اور جنس کی ایک ڈھیری دیکھی جو کھانے کے لئے استعمال ہوتی ہے اس کو طعام“ کے طور بیان صلى الله سه۔ فرمایا گیا ہے تو آپ نے کھانے پینے کی اجناس میں سے ایک جنس کی ڈھیری دیکھی آنحضور ﷺ نے