خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 587
خطبات طاہر جلداا 587 خطبه جمعه ۲۱ را گست ۱۹۹۲ء نے یہ فتوے دینے شروع کئے کہ مسلمان کا مال تو حرام ہے لیکن غیر مسلم کا مال بے شک کھاؤ اور لوٹو جو مرضی کرو۔ ایک دفعہ جب بدی کی راہ کھل جائے تو پھر وہ قدم ایک جگہ رک نہیں سکتے ۔ بدی تو پھر لازماً آگے بڑھتی ہے۔ اب یہ حال ہے کہ ہر ایک کا مال حلال ہو گیا ہے۔ اپنا مال ہے جو حرام ہے کیونکہ اس میں حرام کی آمیزش ہو چکی ہے۔ شاید ہی کوئی ایسا مال ہوگا جو واقعہ حلال ہو۔ صلى الله پس عملاً یہ صورت ہے کہ ہر غیر مال حلال بن گیا ہے جس کو آنحضرت ﷺ نے حرام قرار دیا تھا اور اپنا مال جس کو حلال بنانے پر زور دیا تھا وہ حرام ہو چکا ہے کیسی بدنصیبی ہے؟ اس ایک حدیث میں تمام دنیا کے معاشروں کی اصلاح کے سامان موجود ہیں ۔ یہ تین باتیں ہیں جنہیں اگر مسلمان اپنالیں تو مسلمانوں کے مقدر بن جائیں ۔ اگر غیر اپنا لیں تو اُن کی تقدیریں بدل جائیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ قطع نظر اس کے کہ کسی کا مذہب کیا ہے اگر آنحضور ﷺ کی ان تین نصیحتوں پر کوئی عمل کرے تو اُس کی دنیا لازمی سنور جائے گی اور جو تین باتیں دنیا سنوارنے کی بیان فرمائی گئی ہیں یہ تینوں نیکی کی باتیں ہیں اور نیکی کے نتیجہ میں پھر اور نیکیاں پیدا ہوتی ہیں اس لئے میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ان تین نصیحتوں پر عمل کرنے کے ذریعہ جن قوموں کی دنیا سنورے گی ان کا دین بھی سنور جائے گا۔ دنیا ہی نصیب نہیں ہوگی ان کو آخرت بھی نصیب ہو جائے گی ۔ تو اللہ تعالیٰ اگر غیروں کو توفیق نہیں دے رہا تو احمدیوں کو تو کم از کم توفیق ہونی چاہئے کہ جس رسول اکرم ﷺ کی محبت اور عشق کا دعوی کرتے ہیں ، جس کی خاطر اتنی تکلیفیں اُٹھا رہے ہیں جس کا کلمہ صلى الله پڑھنے کے جرم کی سزا کے نتیجہ میں جیلوں میں جاتے ہیں، مال لوٹے جاتے ہیں، بازاروں میں اُن کو دھکے پڑھتے ہیں ، گالیاں دی جاتی ہیں، تھانوں میں بلایا جاتا ہے جس رسول ﷺ کی محبت میں یہ سب دکھ اُٹھا رہے ہیں اُس رسول کے فیض سے اپنی دنیا اور اپنی عاقبت سنوارتے کیوں نہیں ہیں۔ ان نصیحتوں پر اگر عمل کریں گے تو اس محبت کی جو سزا دی جارہی ہے اُس سے ہزاروں لاکھوں گنا اُس محبت کا فیض آپ کو پہنچے گا پس بڑی بدنصیبی ہو گی کہ محبت کے نتیجہ میں سزا تو پار ہے ہیں لیکن محبت کے فیض سے محروم ہیں۔ صلى الله ایک اور موقع پر آنحضور ﷺ نے فرمایا۔ حضرت عبداللہ بن عمر کی روایت ہے کہ بڑے گناہ یہ ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرانا، والدین کی نافرمانی کرنا کسی کو ناحق قتل کرنا اور جھوٹی قسم کھانا۔ ( بخاری کتاب الایمان حدیث نمبر : ۶۶۷۵)