خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 582
خطبات طاہر جلدا 582 خطبه جمعه ۲۱ را گست ۱۹۹۲ء صلى الله حضور پیش کیا گیا کیونکہ وہ اس وقت رسول اللہ ﷺ کی نمائندہ تھیں ۔ آپ نے جب اس آٹے کی بنی ا ہوئی روٹی کا پہلا لقمہ منہ میں ڈالا تو بے اختیار آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے ۔ آپ کی خادمہ نے عرض کیا کہ یہ تو اتنا اچھا آٹا ہے اس سے لطف اٹھانے کی بجائے آپ رو کیوں رہی ہیں تو انہوں نے کہا کہ میر آقا، میرا محبوب جب زندہ تھا اس وقت یہ آٹا میسر نہیں تھا۔ جنگ اُحد میں آپ کے دانت شہید ہوئے وہ موٹا آٹا جو ہم بنایا کرتے تھے اس کی گندم کے ٹکڑے یا جو کے ٹکڑے بعض دفعہ دانتوں میں آجاتے تھے اور تکلیف پہنچتی تھی اس لئے آٹا میرے لئے راحت کا نہیں غم کا موجب ہے، یہ محبت کی نشانی ہے، پیار کی سچی علامت ہے۔ پس جس بھائی سے پیار ہو اس کی چیز کی طرف لالچ کی نظر انسان ڈال ہی نہیں سکتا اگر اپنے بھائی کی چیز کی طرف آپ لالچ کی نظر ڈالتے ہیں تو پھر تھرما میٹر رسول اللہ ﷺ نے ہمارے ہاتھ میں تھما دیا ہے جس میں آپ اپنا ٹمپر پچر دیکھ سکتے ہیں۔ یہ محبت کا ٹمپریچر نہیں ظاہر کرے گا ، نفرت کا ٹمپر بچر ظاہر کرے گا۔ فرمایا اچھی چیز ہتھیانے کی حرص نہ کرو، حسد نہ کرو ۔ مضمون اور کھلتا چلا جا رہا ہے۔ دشمنی نہ کرو۔ پھر فرمایا بے رخی نہ برتو ۔ پہلے تو یہ مضمون آگے بڑھ رہا تھا اب اس کا ایک اور کنارہ پیش فرمادیا کہ در اصل جب تم اپنے کسی بھائی سے بے رخی کرتے ہو تو وہاں بھی محبت کا فقدان ہے جو آگے پھر ان سب چیزوں میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ تبھی انبیاء کو خدا تعالیٰ نے اپنے دشمنوں کے لئے یہ جواب سمجھایا کہ جن کو تمہاری آنکھیں حقیر اور گھٹیا جانتی ہیں میں اُن سے وہ سلوک نہیں کرتا کیونکہ انہوں نے مجھے خدا کی خاطر قبول کیا ہے اس لئے مجھے اُس سے محبت اور پیار ہے ۔ پس خدا کی خاطر ایمان لانے والوں کے لئے یہ بحث ہی نہیں رہتی کہ کوئی کسی قوم سے تعلق رکھتا ہے کسی طبقہ سے تعلق رکھتا ہے۔ امیر ہے کہ غریب ہے کس حال میں ہے اس سے بے رخی نہیں برت سکتا۔ آنحضرت ﷺ ایک دفعہ ایک غیر مسلم سروار سے محو گفتگو تھے اور اس وقت ایک نابینا مسلمان آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ اس نے بات میں دخل دینا شروع کیا ۔ اب بات میں دخل دینا اخلاق سے گری ہوئی بات ہے لیکن آنحضرت ﷺ نے اس خیال سے کہ غیر مسلم ہدایت کی باتیں سننے آرہا ہے اور اس پر برا اثر نہ پڑے ۔ آپ کو سمجھانا بھی چاہا لیکن دل میں یہ بھی خیال تھا کہ اس غریب کی دل شکنی ہوگی تو کیسا عجیب لطیف انداز اختیار فرمایا اپنے ماتھے پر ہلکے سے بل ڈالے جس صلى الله