خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 52
خطبات طاہر جلدا 52 خطبه جمعه ۲۴ جنوری ۱۹۹۲ء صلى الله عروسه اور اس کے تقدس کی خاطر قربانی کی روح کے ساتھ قادیان آبسے ۔ یہ سارے دور یشان قادیان ہی ہیں اور ان پر اصحاب الصفہ کا اور ان آیات کا مضمر کا اور ان آیات کا مضمون بہت عمدگی سے مون بہت عمد کی سے صادق آتا ہے ۔ حصہ آتا ہے۔ حضرت اقدس محمد مصطفی علی کے فیوض میں سے ایک ایک فیض قرآن کریم میں یہ بھی بیان ہوا ہوا کہ کہ وہ وہ آخرین آ کو اولین سے ملانے والا ہے یعنی ان کے غلاموں میں سے ایک ایسا پیدا ہوگا جو دور آخر میں بسنے والے محمد مصطفیٰ کے غلاموں کو اول دور میں پیدا ہونے والے غلاموں کا ہم عصر کر دے گا ، ان کا ساتھی بنادے گا ۔ پس قادیان کے یہ درویش بھی انہی ساتھیوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے تیرا سو سے لے کر چودہ سو سال تک کے زمانے کی فصیل پاٹ دی اور خدا کے فضل سے اولین میں شمار ہوئے۔ ان کے متعلق جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا بہت سی ایسی تجویزیں ہیں جو میرے زیر غور ہیں اور جن کے متعلق مختصراً مختلف وقتوں میں قادیان میں بھی میں جماعت کے سامنے گزارش کرتا رہا ہوں ۔ پچھلے خطبہ میں بھی میں نے کچھ بیان کیا تھا۔ اب اسی مضمون کو کچھ اور آگے بڑھا کر جماعت کو سمجھانا چاہتا ہوں کہ کس رنگ میں ہمیں قادیان کے ان دریشوں کے حقوق ادا کرنے ہیں کیونکہ ان کا ہم پر احسان ہے ۔ ہمارا ان پر احسان نہیں ہوگا اگر ہم ان کی خاطر کچھ کریں ۔ وہ صحابی جس نے رسول اللہ ﷺ سے یہ کہا تھا کہ یا رسول اللہ ! آپ اصحاب الصفہ کو حکم کیوں نہیں دیتے کہ یہ باہر نکل جائیں ، اس کا ایک بھائی اصحاب الصفہ میں شامل تھا خود باہر نکلتا تھا اور کماتا تھا اور اچھا کھاتا پیتا تھا۔ اس کے ذہن میں دراصل خاص طور پر اپنا بھائی تھا کہ یہ بھی ہاتھ پاؤں کا ٹھیک ٹھاک ہے۔ یہ کیوں پاگلوں کی طرح یہاں بیٹھ رہا ہے، نکما ہے ۔ آنحضرت ہی اس کو حکم دیں تو یہ بھی باہر نکلے ۔ اس کے جواب میں جو بات آنحضور ﷺ نے بیان فرمائی جس کے متعلق میں نے کہا تھا کہ تم نہیں اس کا حال جانتے ۔ وہ یہ بات تھی کہ بعض دفعہ خدا بعضوں کی وجہ سے دوسروں کو رزق عطا کرتا ہے اور تمہیں کیا پتہ کہ تمہیں جو رزق مل رہا ہے وہ اس کی برکت سے مل رہا ہو ۔ یہ ان کے وہ چھپے ہوئے حال تھے جن کا ایک ذکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اس جواب میں کیا لیکن میں سمجھتا ہوں کہ قادیان کے درویشوں کی برکت بھی اسی طرح سب دنیا کی جماعتوں کے اموال میں شامل ہو چکی ہے۔ ان کی سہولتوں اور ان کی آسائشوں میں شامل ہو چکی ہے ۔ وہ لوگ جو شعائر اللہ کی حفاظت کے لئے اپنے آپ کو وقف کر دیں ان کی برکتیں پھیلتی ہیں اور ہم اگر ان کی خاطر کچھ کریں صلى الله الله