خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 548 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 548

خطبات طاہر جلداا 548 خطبہ جمعہ ۷ را گست ۱۹۹۲ء باتیں جن پر خدا تعالیٰ نے پردے ڈالے ہوئے ہیں ان کو ایک دوسرے پر کھولیں۔ اگر کوئی ایسی بات ہے جس کے متعلق یہ خطرہ ہے کہ وہ بعد میں ظاہر ہوگی اور پھر تعلقات تلخ ہونگے اس لئے عقل کا تقاضا الله یہ ہے اور رسول اللہ ﷺ کی تعلیم بھی یہی کہتی ہے کہ پہلے ہی بات کھول دو لیکن بعض ایسے جہلاء سے جہلاء ہیں جو اپنی اچھی بھلی شادی کو بالکل اپنے ہاتھوں سے برباد کر دیتے ہیں۔ چنانچہ آج کل میرے سامنے ایک معاملہ ہے ایک بیچاری سادہ مزاج بیوی جس کی زندگی اپنے خاوند سے بہت اچھی گزر رہی تھی اور ایسے معاشرے کی ہے جس معاشرے کی برائیاں اس طرح کی ہیں کہ وہاں بعض غلطیاں سرزد ہونا ایک روزمرہ کی زندگی کا حصہ ہے کوئی اتفاقی حادثہ نہیں ہے۔ پتا نہیں اس بیچاری کو کیا خیال آیا کہ میں اور سچی بنوں اور ایک دن اپنے میاں کے سامنے اپنی وہ پرانی باتیں کر دیں جو خدا تعالیٰ نے مخفی رکھی ہوئی تھیں ۔ اس دن کے بعد پھر وہ میاں اس کو دکھائی نہیں دیا اور اب اس کے خط آتے ہیں کہ میں کیا کروں۔ بہت ہماری محبت تھی، بچے ہیں بچوں سے بڑا پیار تھا لیکن وہ متنفر ہو کر مجھ سے بھاگ گیا ہے۔ تو شادی بیاہ کے پہلے خاص احتیاط کے ساتھ اپنی بعض ایسی کمزوریوں کو پیش کرنا جن کے متعلق یہ خیال ہو کہ اگر براہ راست علم ہو تو سخت نقصان پہنچے گا۔ یہ تقویٰ کے خلاف نہیں بلکہ تقوی کے عین مطابق ہے لیکن اگر خدا نے پردے ڈھانچے ہوں تو کئی بدیاں ہیں جو چھپی ہوئی غیروں کے سامنے نہیں ہیں تو ان کی تشہیر کرنا تو بہت ہی پرلے درجے کی حماقت ہے بلکہ خودکشی ہے اور یہ بیماری بعض مواقع پر انفرادی نقصان پہنچاتی ہے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے۔ میاں بیوی کے تعلقات میں ایسی باتیں بے وجہ کھولنا جو ماضی کا حصہ بن چکیں دفن ہوگی یہ نیکی نہیں بلکہ بے وقوفی ہے لیکن بعض دفعہ یہی چیزیں جو ہیں جو معاشرے میں عام گند بن کر پھیل جاتی ہیں اور غالباً یہی بڑی حکمت ہے جس کے پیش نظر رسول اللہ ﷺ نے مجاہر کو نہایت ہی ظالم اور گناہ گار قرار دیا ہے وجہ یہ ہے کہ جو شخص اپنے بدیوں سے شرم نہیں کرتا وہی ہے جو باہر بیٹھ کر یہ باتیں کرتا ہے اور بظاہر سیچ بول رہا ہے لیکن ایسا سچ ہے جو خدا کے نزدیک جھوٹ سے بھی بد تر ہے۔ اس میں دو گناہ ہیں ایک یہ گناہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ستاری کے پردے کو خود اپنے ہاتھوں سے چاک کر رہا ہے اور دوسرا گناہ یہ ہے کہ ایسی باتوں سے معاشرہ گندہ ہوتا ہے۔ وہ نو جوان جن کی مجالس میں یہ باتیں ہوں کہ رات ہم نے یہ گناہ کیا ، رات یہ بد معاشیاں کیں، فلاں جگہ ہم نے یوں کیا۔ وہ ایک تو بے حیائی کے اور خدا کی ستاری کے پردہ چاک کرنے کے مرتکب تو ہیں ہی لیکن وہ نسبتاً کم گناہ گار جن کی مجلس