خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 543
خطبات طاہر جلد ۱۱ 543 خطبہ جمعہ ۷ اگست ۱۹۹۲ء مگر روزمرہ کی زندگی میں انسان بہانے بہت بناتا ہے اور بہانہ بنانا پھر رفتہ رفتہ اُچھل کر کھلے کھلے <mark>جھوٹ</mark>وں میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ضرورت کے وقت جو <mark>جھوٹ</mark> بولنے والے لوگ ہیں وہ سب بہانہ جو ہوتے ہیں۔کوئی ایسا شخص ضرورت کے وقت <mark>جھوٹ</mark> نہیں بولتا، جس کو بہانے بنانے کی عادت نہ ہو۔وہ شخص جو بہانوں سے پاک ہے اس کے لئے <mark>جھوٹ</mark> کی جڑیں ہی نہیں ہیں۔جو <mark>جھوٹ</mark> کی جڑیں ہوا کرتی ہیں انسانی فطرت میں جو کہ عام طور پر دکھائی نہیں دیتیں۔جو <mark>جھوٹ</mark> باہر دکھائی دیتا ہے اس کی اندر بھی ضرور جڑیں ہیں ان جڑوں کو تلاش کریں تو پھر آپ کو باہر سے <mark>جھوٹ</mark> سے بچنے کے ذرائع میسر آسکتے ہیں چنانچہ اس مسئلے پر غور کرتے ہوئے میری نظر بچوں تک پہنچی اور <mark><mark>مجھ</mark>ے</mark> اندازہ ہوا کہ کیوں بعض ماں باپ آئندہ کیلئے <mark>جھوٹ</mark>ی نسلیں پیچھے چھوڑ جاتے ہیں حالانکہ وہ سچ کی تلقین کرنے والے لوگ ہیں اور مزاج کے سخت بھی ہوا کرتے ہیں ، غلطیاں تو برداشت ہی نہیں کرتے اس کے باوجود ان کے بچے <mark>جھوٹ</mark>ے بن جاتے ہیں۔تو ایسے بعض بچوں کے حالات پر خاندانوں پر نظر رکھ کر <mark><mark>مجھ</mark>ے</mark> یہ معلوم ہوا کہ حقیقت یہ ہے کہ بچوں پر ناجائز بختی <mark>جھوٹ</mark> پیدا کرتی ہے۔اگر ایک بچے کو روز مرہ یہ پتا ہو کہ <mark><mark>مجھ</mark>ے</mark> سے پلیٹ ٹوٹ جائے گی تو جوتیاں پڑیں گی۔<mark>مجھ</mark> سے فلاں چیز غلط ہوئی تو گالیاں پڑیں گی یا مار پڑے گی یا <mark><mark>مجھ</mark>ے</mark> ذلیل ورسوا کیا جائے گا۔وہ ہر وقت دل میں بہانے ڈھونڈتا رہتا ہے ذرا اس کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھو ہیں تم نے یہ کیا کیا وہ فوراً کوئی بہانہ بنادے گا۔پس بظاہر ماں باپ کچے ہیں ، بظاہر ماں باپ غلطیوں کی سرزنش کرنے والے ہیں اور وہ س<mark>مجھ</mark>تے ہیں کہ اس کے نتیجے میں ہم بہت ہی نیک اور پاک اولا د پیدا کر رہے ہیں لیکن یہ کوشش عملاً <mark>جھوٹ</mark>ی اولاد پیدا کرنے پر منتج ہو جاتی ہے۔جس قسم کی عمر ہے اس قسم کا سلوک ہونا چاہئے اگر چھوٹی عمر میں آپ کو اتنی سختیاں کرنے کا حق ہے اگر اللہ تعالیٰ آپ کو شریعت کا مکلف بنادیتا تو کون ہے آپ میں سے جو عذاب سے بچ سکتا ہے۔تبھی آنحضور ﷺ نے سات سال کی عمر تک بچے کو نماز پڑھنے کیلئے بختی سے ہدایت دینے کی ہدایت نہیں فرمائی۔فرمایا سات سال کا ہو جائے پھر پیار اور محبت سے اس کو س<mark>مجھ</mark>اؤ اور شامل ہو جائے تو ہو جائے ، شامل نہ ہو تو نہ ہو۔دس سال تک اس سے یہ سلوک کرو یہاں تک نماز کا تعلق اس کے دل میں رائج ہو جائے ، راسخ ہو جائے۔تب پھر اس پر تھوڑی بہت سختی شروع کرو (ابوداؤد کتاب الصلوۃ حدیث نمبر :۴۱۸ ) اور بارہ سال کے بعد جب وہ بلوغت کو پہنچتا ہے اس کے بعد اس کا معاملہ اور خدا کا معاملہ تم اس سے پیچھے ہٹ جاؤ۔صلى الله