خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 505 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 505

خطبات طاہر جلد !! نہ ہو تو آر 505 خطبہ جمعہ ۲۴ جولائی ۱۹۹۲ء کھانا کھا کر لیٹ گیا اور کافی رات گزر گئی اور قریباً ۱۲ بجے کا وقت ہو گیا تو کسی نے میرے کمرے کے دروازے پر دستک دی میں نے اُٹھ کر دروازہ کھولا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کھڑے تھے ایک ہاتھ میں گرم دودھ کا گلاس تھا اور دوسرے میں لالہ لالٹین تھی۔ میں حضور کو دیکھ کر گھبرا گیا مگر حضور نے بڑی شفقت سے فرمایا کہیں سے دودھ آگیا تھا۔ میں نے کہا آپ کو دے آؤں۔ آپ یہ دودھ پی لیں آپ کو شاید دودھ کی عادت ہو گی اس لئے یہ دودھ آپ کے لئے لے آیا ہوں سیٹھی صاحب کہا کرتے تھے کہ میری آنکھوں میں آنسو امڈ آئے کہ سبحان اللہ کیا اخلاق ہیں یہ خدا کا برگزیده مسیح اپنے ادنی خادموں تک کی خدمت اور دلداری میں کتنی لذت پاتا ہے اور کتنی تکلیف اُٹھاتا ہے۔ (سیرت المہدی جلد اول صفحہ : ۷۷۰ ) یہ جو دو لفظوں میں حضرت سیٹھی غلام نبی صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اخلاص کا نقشہ کھینچا ہے یہ بہت ہی معنی خیز ہے۔ فرمایا کتنی لذت پاتا ہے اور کتنی تکلیف اٹھاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مہمان نوازی کی تکلیف میں لذت کو بہت دخل ہے اگر آپ کو لذت محسوس پ مہمان نوازی کے بوجھ نہیں اُٹھا سکتے وہ مہمان نوازی جو چیٹی محسوس ہو، جو تکلیف دہ : وہ ہو وہ مہمان نوازی ادا کرنا بہت ہی جان جوکھوں کا کام ہے لیکن وہ مہمان نوازی جولذت پیدا کرتی ہو اس کے ساتھ بھی ایک تکلیف وابستہ ہے کیونکہ تکلیف تو بہر حال ہو گی جو وزنی پلنگ اُٹھائے گا جو بغیر گرم کپڑے کے رات بسر کرے گا اُسے تکلیف تو ہو گی مگر اس کے مقابل پر ایک لذت ہے جو اس تکلیف پر حاوی رہتی ہے ۔ پس حضرت سیٹھی صاحب کا یہ فقرہ پڑھ کر میں نے بہت لطف اُٹھایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ بھی کیسے زیرک تھے اور کیسا عمدہ کلام فرماتے تھے کہ دو لفظوں میں نہ صرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک خلق کا نقشہ کھینچا بلکہ گہری فطرت کا راز بیان فرما دیا۔ پس آپ کو بھی مہمان نوازی میں لذت پانی ہوگی اور اس لذت یابی کے لئے مہمان نوازی کو کسی محبوب سے منسلک کر کے مہمان نوازی کریں تو لذت کا راز پا جائیں گے۔ اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے یہ واقعات یاد کر کے مہمان نوازی کریں گے تو چونکہ مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے آپ کو پیار ہے یہی پیار آپ کے مہمانوں کی طرف