خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 468 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 468

خطبات طاہر جلداا 468 خطبہ جمعہ ۱۰ جولائی ۱۹۹۲ء جہاں تک جماعتی موازنہ کا تعلق ہے پاکستان کے علاوہ جو بعض بڑے بڑے ممالک ہیں ان میں سے میں نے 15 ممالک آپ کے سامنے پیش کرنے کے لئے رکھے ہیں ۔ اس سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ خدا کے فضل سے کس تیزی کے ساتھ بیرونی جماعتیں قربانی میں ترقی کر رہی ہیں۔ جرمن صف اول پر ہے ۔ بڑی تیزی کے ساتھ آگے بڑھا ہے اور واقعہ ربوہ کا مقام حاصل کر لیا ہے جرمنی کی ایک سال کی قربانی 1052717 پاؤنڈ کی ہے اور یہ سلسلہ ہر سال بڑھے چلا جا رہا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ 49870000 روپے کی قربانی صرف جماعت جرمنی کی ہے جو چند سال پہلے ساری دنیا کی جماعتوں کی مل کر بھی نہیں تھی۔ اگر آپ دس پندرہ سال پہلے چلے جائیں تو آپ حیران ہوں گے کہ خدا نے جماعت کے اموال میں اور قربانی کی روح میں کسی قدر برکت دی ہے۔ امریکہ جرمن کے پیچھے پیچھے دوسرے نمبر پر آرہا ہے اور خدا کے فضل سے بڑی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ وہاں مالی نظام مستحکم ہوتا چلا جا رہا ہے اور ابھی وہاں بہت گنجائش ہے۔ اس لئے اگر چہ جرمنی سے کافی پیچھے ہے لیکن جرمنی کے لئے چیلنج ضرور ہے کیونکہ جس رفتار سے وہ لوگ بیدار ہور ہے ہیں احساس قربانی بیدار ہو رہا ہے اور نشو و نما پا رہا ہے ، بعید نہیں کہ چند سالوں میں وہ جرمنی کو پکڑ لیں تو خیر مشکل ہے مگر پکڑنے کی کوشش ضرور کریں گے۔ قریب ضرور پہنچ سکتے ہیں تو نمبر دو پر امریکہ کی قربانی ۔ 501930 پاؤنڈ ہے۔ مجھے یاد ہے کہ پندرہ میں سال پہلے کا ایک وقت تھا یا شاید اس سے کا تھا بھی کم ہو کہ امریکہ کو باہر سے امداد ملا کرتی تھی۔ میں جب ۱۹۷۸ء میں گیا ہوں تو اس وقت بھی یہی صورت حال تھی اور میں نے ان کو بتایا کہ دیکھو ابھی تک باہر سے مدد لے رہے ہو۔ یعنی جہاں تک مساجد اور مشنز کے قیام کا تعلق تھا وہ محتاج تھے کہ باہر سے مدد آئے تو بناسکیں ۔ ان کو میں نے یاد دلایا کہ ایک زمانہ تھا جبکہ قادیان سے نہایت غریب لوگ دو دو پیسے کی قربانیاں پیش کیا کرتے تھے کوئی انڈہ دے کر ، کوئی مرغی دے کر کوئی بکری دے کر رو پے جمع کیا کرتی اور وہ جماعت جو بھی قربانی کرتی تھی تمہارے جیسے امیر ملکوں کی طرف وہ روانہ ہوا کرتی تھی۔ تمہیں اپنے پاؤں پر کھڑے ہو کر اب باہر کے غریب ملکوں کے لئے قربانیاں پیش کرنی چاہئیں۔ وہ جو احسان ہے وہ حروف میں یا اعداد و شمار میں شمار کیا نہیں جایا کرتا اس زمانے کی جو قربانی ہے وہ چاہے 5 ہزار یا 10 ہزار روپے کی ہو لیکن جس روح کے ساتھ وہ قربانیاں پیش کی گئی ہیں وہ ایسی روح ہے جو ہمیشہ غالب رہنے والی روح ہے اور اس