خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 457
خطبات طاہر جلد اا 457 خطبہ جمعہ ۳ جولائی ۱۹۹۲ء ہے لیکن اصلاح شدہ تعلق ۔ وہ تعلق جیسا خدا کو اپنی مخلوق سے تعلق ہے ویسا تعلق بن جاتا ہے۔ کتنا گہر ا عارفانہ شعر ہے۔ العاقلون بعالمين يرونه والــعــــــار فــون بــــــه راو اشيـــاء پھر جب انسان عرفان کا مرتبہ حاصل کر لیتا ہے ۔ عارف باللہ بن جاتا ہے تو پھر اللہ کی نظر سے ساری مخلوق کو دیکھنے لگ جاتا ہے۔ إِنَّا غمسنا من عناية ربنا في النور بعد تمزق الا هوا ( القصائد الاحمد یه صفحه : ۲۳۰) ہم نے اپنے رب اللہ کی عنایت سے ، فی النور ، خدا کے نور میں غوطے لگائے بعد تمزق الا هواء اور یہ غوطے تب لگائے جب اپنی ھوا و نفس کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ ان سے کلیہ تعلق تو ڑیا۔ انی شربت كوس موت للهدى فوجدت بعد الموت عين بقاء (القصائد الاحمدیہ صفحہ : ۲۳۱) میں نے موت کے پیالے پر پیالے پیئے للهدی: ہدایت کی خاطر فـو جـدت بعد الموت عين بقاء پر موت کو اختیار کرنے کے بعد میں نے آب بقا کا چشمہ حاصل کیا۔ بقا کا پانی، بقا کا سر چشمہ مجھے اس موت کو اختیار کرنے کے بعد نصیب ہوا۔ فرمایا: يا ايها الناس اشربوا من قربتى قد ملئ من نور المفيض سقائي (القصائد الاحمدیہ صفحہ: ۲۳۱) اے بنی نوع انسان آؤ اور میری مشک سے خوب پانی پیو قد ملئ من نور المفيض سقائی کیونکہ یہ مشک فیضان کرنے والے خدا کے نور سے بھری ہوئی ہے۔ اس میں دنیاوی تعلقات کی کوئی ملونی باقی نہیں رہی۔ صلى الله حضرت محمد علی یہ بنی نوع انسان کی طرح وہ لوٹنا ہے جسے تدلی کہا جاتا ہے دَنَا فَتَدَلَّى - جب حمد ﷺ نے خدا کی طرف رجوع کیا اور خدا کا فیضان حاصل کیا۔ خدا نما بن گئے ۔ سارے خدا کو اپنے وجود میں اس طرح داخل فرمالیا کہ غیر اللہ کا کوئی نشان باقی نہیں رہا۔ آپ کا ہاتھ اٹھتا تھا تو خدا ۔