خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 435
خطبات طاہر جلد !! 435 خطبه جمعه ۲۶ جون ۱۹۹۲ء پہلے خدا سے تعلق جوڑا پھر اس کے بعد بنی نوع انسان کی طرف جھکا۔ دو ۔۔۔ آنحضرت ﷺ کا کمال اعلیٰ درجہ کا کمال ہے جس کی نظیر نہیں مل سکتی اور اس کمال میں آپ کے دو درجے بیان ہوئے ہیں ایک صعود اور دوسرا نزول ۔۔۔ 66 صعود معنی اوپر چڑھنا اور نزول معنی واپس آنا ۔ حضرت مسیح کے متعلق جو نزول کا لفظ آیا ہے اگر آپ انہی معنوں کو اس پر اطلاق کر کے سمجھیں تو آپ کو سمجھ آئے گی نزول کا مطلب یہ ہے کہ وہ پہلے خدا کی طرف جائے گا خدا سے حاصل کرے گا پھر وہ تمہاری طرف جھکے گا ورنہ دنیا میں کسی انسان کو یہ توفیق نہیں ہے نہ اس منصب پر اسے فائز کیا جا سکتا ہے کہ وہ مہدی بن جائے یا عیسی دوراں ہو، مسیح دوراں بن جائے جب تک وہ پہلے خدا کی طرف رجوع نہ کرے اور صعود نہ کرے اور پھر نزول نہ کرے۔ اس وقت تک وہ تمہیں شفاء دینے کی اہلیت نہیں رکھ سکتا۔ پس نزول میں یہ وہ پیغام تھا جو دنیا کے اندھے نہیں سمجھ سکے اور اپنی زبان میں اس کے پتا نہیں کیا کیا مطلب کرتے رہے۔ یہاں تک کہ اس مضمون کو نا ممکن بنا دیا جسم کی حد تک محدود کر دیا۔ نہ کبھی کوئی جسم اُترے اور نہ کبھی دنیا کو اس پر ایمان لانے کی توفیق ملے گویا اس مضمون کو نہ سمجھ کر ہمیشہ کے لئے مسیحیت کی صف لپیٹ دی گئی ہے۔ بہر حال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ پہلا صعود ہے پھر نزول ہے۔ اسی کو اچھی طرح یا درکھو جس کا صعود ہوتا ہے اس کا نزول ہوتا ہے اور قرآن کریم میں آنحضرت ﷺ کے سواد نیا کے کسی نبی کے لئے نزول کا لفظ استعمال نہیں ہوا۔ الله میں نے بہت غور کیا حالانکہ تمام نبیوں کا صعود ہوتا ہے اور نزول ہوتا ہے لیکن اپنے معنوں صلى صلى الله علم میں سب سے اعلی درجے کا صعود آنحضرت ہی کو نصیب ہوا اور انہی معنوں میں آنحضور ﷺ کے عروسه نازل ہونے کا ذکر فرمایا گیا ہے ۔ نہ ابراہیم کے نازل ہونے کا ذکر ، نہ موسیٰ“ کے نازل ہونے کا ذکر، نہ عیسی کے نازل ہونے کا ذکر یعنی پہلے عیسی کا اور نہ آدم کا نہ کسی اور نبی کا ۔ قرآن میں خدا نے الله محمد رسول اللہ ﷺ کے نازل ہونے کا ذکر فرمایا اور آپ نے اپنے غلام کامل کے نازل ہونے کا ذکر !۔ یہ وہ مضمون ہے جسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بیان فرما رہے ہیں کہ پہلے صعود ہوگا فرمایا۔ پھر نزول ہوگا ۔