خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 39 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 39

خطبات طاہر جلداا 39 خطبہ جمعہ ۷ ار جنوری ۱۹۹۲ء اسے بیان کرتا ہوں بہت سے احمدی دوستوں نے جلسہ کے بعد اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ قادیان میں جائیداد بنائیں۔ مکانات خریدیں اور دوسری جائیداد بنائیں تا کہ جلسہ کے دنوں میں جو تنگی محسوس ہوئی تھی وہ آئندہ نسبتاً کم محسوس ہو اور جس حد تک ہو سکے رہنے والوں کے لئے فراخی میسر آئے اور وہ یہ خواہش رکھتے تھے کہ بے شک انجمن کے نام پر لے لی جائے ، روپیہ وہ بھیجیں گے اور سارا سال انجمن استعمال کرے، جب ہم جلسہ پر آئیں تو ہمیں بھی اور ہمارے مہمانوں کو بھی وہاں ٹھہرنے کی سہولت ملے ۔ یہ تجویز اچھی ہے ۔ قادیان کی بحالی کے سلسلہ میں یہ بھی ضروری ہے کہ ہم وہاں کثرت سے جائیدادیں بنائیں لیکن اس ضمن میں جو ملکی قوانین ہیں ان کو بہر حال پیش نظر رکھنا ہوگا۔ ان کا ہم مطالعہ کروارہے ہیں رہے ہیں اور انشاء اللہ جماعت کو راہنمائی ہو گی لیکن ایک راستہ ایسا ہے جس کا رشتوں ۔ تعلق ہے، جس شخص کی شادی قادیان میں یا بھارت کی جماعتوں میں ہو جائے ۔ مثلاً کشمیر میں بھی یہ بڑا مسئلہ ہے۔ ادھر اڑیسہ وغیرہ میں بھی ہماری بہت سی احمدی بچیاں اس عمر کو پہنچ رہی ہیں کہ زیادہ دیر ہو تو پھر مایوسی کی طرف مائل ہو جائیں گی تو جن دوستوں کو ہندوستان میں جائیدادیں بنانے کی خواہش ہو اور ان کے عزیز مثلاً شادی کی عمر کے ہوں اور وہ وہاں شادی کروالیں تو جس بچی سے شادی ہوئی ہے اس کے رشتہ دار بھی ان کے نام پر جائیدادیں لے سکتے ہیں ۔ وہ خود بھی لے سکتے ہیں ۔ روپیہ بھجوانے میں آسانی پیدا ہو جائے گی کیونکہ باہر کے رشتہ دار کو حق ہے کہ وہ اپنے عزیزوں کو وہاں روپیہ بھیج سکے تو اقتصادی مسئلہ ہے جو اس معاشرتی مسئلہ کے ساتھ تعلق رکھنے والا ہے۔ میں امید رکھتا ہوں کہ اس ضمن میں دوست اس بات کو پیش نظر رکھیں گے کہ وہاں جائیداد بنانی ہے اور ممکن ہو تو اپنے رشتہ داروں کے نام پر بنائیں ورنہ ہر شخص کی جائیداد انجمن تو نہیں سنبھال سکتی اور یہ بھی ابھی تحقیق طلب ہے کہ انجمن کو اس طرح بے نامی جائیداد خریدنے کی حکومت اجازت بھی دے گی کہ نہیں ۔ اس لئے بہتر یہی ہے کہ جو معروف اور مستند رستے ہیں ان کو اختیار کیا جائے ۔ زمینیں خریدنے کے سلسلہ میں ایک نصیحت میں یہ کرنا چاہتا ہوں کہ اپنے تعلقات کے پیش نظر بعض لوگ پھر پھر ا کر بعض لوگوں سے سودے کر لیتے ہیں ۔ قادیان کے حالات میں یہ بہت نامناسب اور جماعت کے مفاد کے منافی حرکت ہے ۔ اگر ہم نے وہاں Rehabilitate ہونا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ہمارا پروگرام ہے اور جس طرح وہاں کی آبادی میں ایک طبعی