خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 432 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 432

خطبات طاہر جلدا 432 خطبه جمعه ۲۶ جون ۱۹۹۲ء صلى الله اپنے اوپر غور کر کے دیکھیں جن کو اللہ تعالیٰ کے فضل سے برکت نصیب ہوئی ہوئی ہے ۔ حضرت امام مہدی علیہ الصلوۃ والسلام کو مانا اور آپ کی وساطت سے رمانا اور آپ کی وساطت سے اور آپ کے زاویے سے آنحضور ﷺ کا نور آپ کی ذات پر بڑی شان کے ساتھ چپکا ہے۔ اس کے باوجود اگر رات کو اُٹھ کر اپنے نفس کا تجزیہ کریں تو آپ حیران ہوں گے کہ آپ کے بدن پر کتنے پھوڑے ہیں۔ ہم میں سے ہر ایک کا یہی حال ہے۔ ان پھوڑوں کی نشاندہی شفاء کی طرف پہلی منزل ہے اور وہ لوگ جو سو جاتے ہیں وہ نشاندہی نہیں کر سکتے ۔ راتوں کو اُٹھنے کا اس مضمون سے دہرا شہر اتعلق ہے۔ روحانی معنوں میں ایک پیغام ہے کہ تم سوئے رہو گے تو کیسے پتا چلے گا کہ تمہارے زخم پر کیا کیا داغ ہیں اور کہاں کہاں سے چھلنی ہوا پڑا ہے۔ اُٹھو گے یعنی نفس کو بیدار کرو گے تو پھر ان باتوں کی سمجھ آئے گی پس راتوں کو تمہارا جسم بھی بیدار ہو اور نفس بھی بیدار ہو اور ان دونوں بیداریوں کے ساتھ تم اپنے حالات کا جائزہ لو تو پھر تمہیں معلوم ہو گا کہ تمہارے جسم پر جگہ جگہ کئی قسم کے پھوڑے پھنسیاں اور زخم موجود ہیں اور ان زخموں کی وساطت سے تم دنیا سے چھٹے ہوئے ہو۔ پس تَبَتَّلْ إِلَيْهِ تَبْتِيلًا خدا کی طرف تَبَتَّلْ اختیار کرو۔ صلى الله آنحضور کو جو مثال بنایا گیا تو اس سے ہرگز یہ مراد نہیں ہے کہ نعوذ باللہ من ذلک آنحضور ﷺ کے بدن پر زخم تھے۔ اس مضمون کی نفی پہلی آیت نے کر دی ہے فرمایا یا أَيُّهَا الْمُزَّمِّل تجھ پر تو استغفار کی چادر کے سوا اور کچھ نہیں ہے تیرے بدن سے باہر کی فضا کا تعلق ٹوٹ چکا ہے اب اندر کا ایک سفر ہے جو چادر کے اندر سفر ہوتا ہے یعنی دنیا سے تعلق توڑنے کے بعد پھر ایک اور تبتل کا مضمون شروع ہو جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ باریک در باریک تعلقات میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع اور اندرونی صفائی ۔ اس کا تعلق جلد کے زخموں سے نہیں ہے۔ اس کا تعلق روح کے اندر چھپی ہوئی مخفی حالتوں اور کیفیات سے ہے اور ان کیفیات میں اتر کر جب انسان اپنے آپ کو کھنگالتا رہتا ہے تو پھر کثرت سے استغفار کرتا ہے اور یہی وہ استغفار تھی جو حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کی استغفار تھی ۔ آپ کے بدن پر کوئی چھلکے نہیں تھے چادر تھی اور وہ استغفار کی چادر تھی اس کے بعد آپ نے اندرونی سفر اختیار فرمایا اور اس سفر کے دوران آپ کے درجات بلند ہوتے رہے یہاں تک کہ آپ اس آخری مقام پر پہنچے جس کا نام افق اعلیٰ ہے۔ یعنی سب اُفقوں سے بلند افق جس تک انسان کی رسائی ہو سکتی تھی آپ وہاں تک پہنچے۔ الله