خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 430 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 430

خطبات طاہر جلداا 430 خطبه جمعه ۲۶ جون ۱۹۹۲ء دنا جب ہو جائے تو پھر خدا تعالیٰ سے قرب حاصل کر کے اس سے طاقت حاصل کر کے جب انسان دنیا کی طرف دوبارہ جھکتا ہے تو وہ کامل طور پر متوکل ہو جاتا ہے اور خدا ہر معاملے میں اس کا وکیل رہتا ہے اور کبھی بھی وہ خدا کی وکالت سے باہر نہیں ہوتا۔ تبتل کا مضمون ایسا ہے کہ اگر انسان پوری طرح سمجھ جائے تو خوف سے لرزنے لگے اور اس وقت زملونی کے معنی سمجھ آتے ہیں اس کے بغیر سمجھ نہیں آسکتے ۔ دنیا کے ہر تعلق سے اپنا تعلق اس طرح توڑنا کہ خدا کے مقابل پر اس کو ذہنی طور پر اور قلبی طور پر قربان کرنے کا فیصلہ کر لینا اس کا نام تبتل ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جب اللہ نے ارشاد فرمایا کہ اپنے بیٹے کو ذبح کرو تو آپ کا چونکہ تبتل ہو چکا تھا اس لئے آپ ذہنی طور پر اور قلبی طور پر اس وقت سے تیار تیار بیٹھے تھے۔ صرف انتظار فرمارہے تھے کہ کب یہ بیٹا جوان ہو اور اس کو خدا تعالیٰ نے جو انفرادی حق عطا فرمایا ہے اس حق کو خود استعمال کرے اور میری نصیحت پر عمل کرتے ہوئے خود اپنے آپ کو پیش کرے تب میں اسے ذبح کروں گا لیکن اپنے طور پر حضرت ابراہیم علیہ السلام ذبح کرنے کے لئے تیار بیٹھے تھے۔ پس تبتل کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہر تعلق کو کلیہ توڑ ڈالے۔ تبتل کا مطلب یہ ہے کہ ہر تعلق کو ذہنی اور قلبی طور پر توڑنے کے لئے اس سچائی کے ساتھ تیار ہو جائے کہ جب بھی آزمائش میں ڈالا جائے ہمیشہ پورا اُترے اور یہی مضمون حضرت ابراہیم کے لئے قرآن کریم نے بیان فرمایا ہے کہ جب بھی اللہ نے اس کو آزمایا اس کو پورا پایا اس کو سچا پایا۔ ہر آزمائش پر وہ پورا اترا۔ اب تَبَيَّلْ ایک دینی اور قلبی Exercies ، ایک کسرت اور ورزش کا نام ہے اور یہ ورزش رات کو اُٹھ کر صیح معنوں میں ہوتی ہے اور انسان اپنے اوپر نظر ڈالتا ہے۔ اپنے حالات پر نظر ڈالتا ہے تو جگہ جگہ اپنے آپ کو وہ اس طرح باطل سے چمٹا ہواد دیکھتا ہے یا دنیاوی لذتوں کے ساتھ اس طرح آلودہ پاتا ہے کہ اس وقت اس کو سمجھ آتی ہے کہ اگر اس حالت میں میں ان سے علیحدگی اختیار کروں تو سخت زخمی ہو جاؤں گا اور مجھے توفیق نہیں ملے گی کہ اس درد کو برداشت کر سکوں ۔ اس کے لئے تیاری کیسے کی جاتی ہے یہ شفاء پانے کا ایک مستقل سلسلہ ہے جو رفتہ رفتہ قدم قدم جاری رہتا ہے اور صلى الله اپنے منتہی کو اور کامل منتہی کو حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی ذات میں پہنچا اور باقی سب کے لئے ایک سفر کا نام ہے۔ اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے زخم کے اوپر کھرنڈ یا ایک چھلکا سا آجاتا ہے۔ اس