خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 380
خطبات طاہر جلداا 380 خطبه جمعه ۱۵ جون ۱۹۹۲ء محبت اور اس کی رضا کا اجر ہے کسی کے منہ کی خاطر کوئی انسان اپنا حق چھوڑتا ہے تو اسے اس سے لازماً بہت تعلق پیدا ہو جاتا ہے۔ میں نے اپنے مختلف جماعتی سفروں کے دوران خود ذاتی طور پر یہ تجربہ کر کے دیکھا ہے بعض جھگڑنے والے لوگوں کو سمجھایا جن کے جھگڑے بڑی دیر سے چلے آرہے تھے اس سے پہلے اور بھی لوگ سمجھا چکے تھے لیکن چونکہ اس زمانہ میں میں صرف وقف جدید یا خدام الاحمدیہ کی حیثیت سے ہی سفر کرتا تھا مگر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ایک خونی تعلق ہونے کی وجہ سے جماعت میں نسبتاً زیادہ نرمی کا گوشہ دل میں پایا جاتا تھا۔ پس جہاں دیگر معلم ، مبلغ وغیرہ اس سے پہلے ناکام ہوئے وہاں غالباً اسی تعلق کی وجہ سے میں یہی سمجھتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ خونی رشتہ کی برکت ہی سے ان لوگوں نے اپنے حقوق کو چھوڑا اور اس کے بعد بعد کبھی بھی ان کی محبت میرے دل سے نہیں مٹی۔ میں یہ تجربہ اس لئے بتا رہا ہوں کہ آپ یہ تجربہ کر کے دیکھ لیں آپ کی خاطر اگر کوئی شخص اپنا حق چھوڑتا ہے تو اس کا آپ کے دل میں ایک مستقل مقام بن جاتا ہے اور اگر آپ کے اندر شرافت ہے اور شکر گزاری کے جذبات ہیں تو کبھی بھی آپ اس شخ س شخص کی محبت کو اپنے دل سے نکال نہیں سکیں گے جس نے آپ کی خاطر اپنے ایک حق کو چھوڑا ہے۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خدا کے حضور اپنا مقام بنانے کا اتنا قیمتی نسخہ عطا فر مایا ہے کہ اس کی اور کوئی مثال آپ کو دکھائی نہیں دے گی ۔ فرمایا سچے ہو کر جھوٹوں کی طرح تذلل اختیار کرو اللہ کی خاطر یہ قربانی کر کے دیکھو۔ لطف کی بات یہ ہے کہ دونوں فریق اپنے آپ کو سچا سمجھ رہے ہوتے ہیں پس اس نسخہ کی خوبی دیکھیں کہ دونوں طرف کارگر ہے محبت کی ایسی دو دھاری تلوار ہے کہ دونوں دلوں پر یکساں اثر کرتی ہے کیونکہ فریقین دونوں اپنے آپ کو سچا سمجھ رہے ہوتے ہیں۔ فرمایا سچے ہو کر جھوٹوں کی طرح تذلل اختیار کرو دونوں خدا کی خاطر اپنے آپ کو جھوٹوں کی طرح گرادو اور عاجزی اور انکساری کے ساتھ اپنے بھائی کا دل جیتنے کی کوشش کرو، بھائی کا دل جیتا جائے یا نہ جائے جو ایسی کوشش کرے گا خدا کا دل ضرور جیت لے گا ۔ پس ایک انتقام کا رستہ ہے اس میں ایک بہت ہی بڑی تنبیہ بھی حائل ہے فرمایا دیکھنا اتنا ہی بدلہ لینا جتنا تم پر ظلم کیا گیا ہے۔ ایک ذرہ بھی اس سے زیادہ جانے کی اجازت نہیں اور کون انسان ہے جو انصاف کے معاملہ میں عین اس حد پر رُک جائے جہاں دوسرے سے نا انصافی نہ ہو سکے ۔ جب