خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 357 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 357

خطبات طاہر جلدا 357 خطبه جمعه ۱۵ رمئی ۱۹۹۲ء ان کو ادنیٰ سے اعلیٰ مقامات تک پہنچائیں۔ پس ہمیں دونوں طرف با قاعدہ نگرانی کرنی ہو گی کتنے احمدی ہیں جو خطبات کے اثر سے واقعۂ داعی الی اللہ بن گئے ہیں۔ کتنے ہیں جن کے اندر تمنائیں پیدا ہوئی ہیں لیکن وقت کے ساتھ آہستہ آہستہ ٹھنڈی پڑ جاتی ہیں۔ کتنی جماعتیں ہیں جہاں تبلیغ کے نتیجہ میں نمایاں طور پر کثرت سے لوگ مسلمان ہونا شروع ہو گئے ہیں ۔ کتنی ہیں جہاں شاید تبلیغ ہو رہی ہے لیکن اثر کوئی نہیں ہو رہا۔ اگر آپ جماعت کے حالات کو Categories کے طور پر تقسیم کرنا شروع کریں تو آپ کو بہت سے ایسے گروہ ملیں گے جن کی طرف نظام جماعت کو با قاعدہ توجہ کرنی ہو گی۔ اگر وہ نہیں کریں گے تو وہ گروہ ضائع ہو جائیں گے۔ ان کے اندر ذاتی طور پر یہ صلاحیت نہیں ہے کہ وہ اپنی نیکیوں کو عمل میں ڈھال سکیں۔ پس بہت سے کام ہیں جو نظام جماعت کو ادا کرنے ہیں۔ بہت سے کام ہیں جو انفرادی صلى الله ہیں لیکن امیر جماعت کی ذمہ داری ہے کہ وہ نظر رکھے کہ کتنے افرادان انفرادی پروگراموں سے فائدہ اُٹھا رہے ہیں اگر وہ ایک دفعہ کہہ کر غافل ہو جاتا ہے تو اس نے اپنی امارت کا حق ادا نہیں کیا کیونکہ اس کے لئے بھی صبر کا مضمون ہے اور نصیحت کرنے والے کو سب سے زیادہ صبر میں سے حصہ لینا چاہئے ۔ یہ مضمون بھی میں نے اسی آیت کریمہ سے سے سیکھا ہے ۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ کو جو یہ فرمایا کہ وہ حَظٍّ عَظِيمٍ رکھنے والے انسان ہے تو پہلے صابرین کا ذکر کر دیا تھا۔ اس میں ایک بہت گہرا راز ہے اور وہ یہ ہے کہ صابر بنانے والا جس نے اپنے ساتھیوں کو ایسا صابر بنا دیا کہ خدا بڑے پیار سے ان کا ذکر کر رہا ہے۔ اندازہ کرو کہ وہ خود کتنے بڑے صبر والا ہوگا۔ اور واقعہ یہ ہے کہ جو خود صبر والا ہو وہی دوسرے کو صابر بنا سکتا ہے اور جس میں آپ صبر نہ ہو وہ کسی کو صبر کی تلقین نہیں کر سکتا تو فرمایا محمد مصطفیٰ کے صبر کا اندازہ کرو کتنا بڑا حصہ پایا ہوگا کہ إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُ وا جتنے ایمان والے صابر تم دیکھ رہے ہو یہ محمد ﷺ کی کوششوں کا ہی پھل ہیں۔ انہی کے اخلاق کی خیرات ہیں کہ اتنے صبر علی سی صلى الله کرنے والے پیدا ہوئے ہیں ۔ پس تم بھی محمد مصطفی اللہ کے در سے صبر کی خیرات حاصل کرو۔ پھر تم دیکھو گے کہ تمہیں عظیم تبدیلیاں پیدا کرنے کی طاقت عطا ہو گی اور تم واقعہ وہ کام کر دکھاؤ گے جو بظاہر ناممکن دکھائی دیتے ہیں ۔ صلى الله وسام پس فرانس ہو یا جرمنی ہو یا ہالینڈ ہو یا دنیا کا کوئی اور ملک ہر ملک محمد مصطفی ﷺ کا ملک ہے